سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا نئی قومی سرمایہ کاری حکمت عملی کا اعلان

ریاض۔12اکتوبر (اے پی پی):سعودی عرب کے ولی عہد و نائب وزیراعظم اور اقتصادی و ترقیاتی امور کی کونسل کے چیئرمین شہزادہ محمد بن سلمان نے نئی قومی سرمایہ کاری حکمت عملی کا اعلان کیا ہےجوسٹریٹجی وژن 2030 کی تکیمل میں انتہائی اہم ثابت ہوگی،2030 تک سرمایہ کاری کی سرگرمیوں کے ذریعے ملکی معیشت میں 12 ٹریلین ریال سے زائد داخل کیے جائیں گے،پبلک انویسٹمنٹ فنڈ 3 ٹریلین کی شراکت کے …

ریاض۔12اکتوبر (اے پی پی):سعودی عرب کے ولی عہد و نائب وزیراعظم اور اقتصادی و ترقیاتی امور کی کونسل کے چیئرمین شہزادہ محمد بن سلمان نے نئی قومی سرمایہ کاری حکمت عملی کا اعلان کیا ہےجوسٹریٹجی وژن 2030 کی تکیمل میں انتہائی اہم ثابت ہوگی،2030 تک سرمایہ کاری کی سرگرمیوں کے ذریعے ملکی معیشت میں 12 ٹریلین ریال سے زائد داخل کیے جائیں گے،پبلک انویسٹمنٹ فنڈ 3 ٹریلین کی شراکت کے لیے تیارجبکہ 4 ٹریلین سعودی ریال مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کار کمپنیوں کے ذریعے فراہم کیے جائیں گے۔

سعودی خبررساں ادارے کے مطابق ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے مملکت کے وژن 2030 کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارا ملک سرمایہ کاری کے عظیم الشان مواقع رکھتا ہے جنھیں استعمال کر کے ہم معیشت کومزید متحرک اورآمدنی کے متنوع ذرائع پیدا کریں گے،مملکت کو عالم عرب و اسلامی دنیا میں جو منفرد ومثالی جغرافیائی و سرمایہ کاری کے عظیم مواقع ملے ہیں انھیں استعمال میں لایا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ نئی سرمایہ کاری سٹریٹجی سے جہاں وژن کے مقاصد کے حصول میں مدد ملے گی وہیںنجی سیکٹرکی مجموعی قومی پیداوار میں 65 فیصد ،براہ راست بیرونی سرمایہ کاری 5.7 فیصد اور تیل سے ہٹ کر ایکسپورٹ بھی 16 فیصد سے بڑھ کر 50 فیصد تک ہو جائے گی جبکہ بے روزگاری کے تناسب میں 7 فیصد کمی ہوگی جس سے سال 2030 تک مملکت عالمی مسابقتی انڈیکس میں شامل دس پوزیشنوں میں سے ایک پر پہنچ جائے گی۔

ولی عہد نے کہا کہ قومی سرمایہ کاری کی حکمت عملی کے اگلے مرحلے میں صنعت، قابل تجدید توانائی، نقل و حمل ،رسد وسیاحت، ڈیجیٹل انفرا سٹرکچراور صحت کی دیکھ بھال جیسے شعبوں کے لیے سرمایہ کاری منصوبوں کوشامل کیا جائے گا۔

سٹرٹیجک منصوبے کے حوالے سے اپنی گفتگو میں انھوں نے کہاکہ سرمایہ کاری کے اہداف کا حصول جامع کوششوں کے ذریعے ہوگا جس میں متعدد اداروں کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے گا جیسے پبلک انویسٹمنٹ فنڈ جو مملکت میں اپنی سٹرٹیجی کے تحت سرمایہ کاری کرے گا۔

ولی عہد نے اس بات کو اجاگر کیا کہ سال 2030 تک سرمایہ کاری کی سرگرمیوں کے ذریعے ملکی معیشت میں 12 ٹریلین ریال سے زائد داخل کیے جائیں گے۔اس حوالے سے پبلک انویسٹمنٹ فنڈ 3 ٹریلین کی شراکت کے لیے تیار ہے جبکہ باقی 4 ٹریلین سعودی ریال مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کار کمپنیوں کے ذریعے فراہم کیے جائیں گے۔

مملکت کی جی ڈی پی میں سرمایہ کاری کا تناسب 2019 میں 22 فیصد تھا جو 2030 تک بڑھ کر30 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے جو سعودی معیشت کو دنیا کی 15 بڑی معیشتوں میں سے ایک بننے میں معاون ثابت ہو گا۔