سعودی ولی عہد کا وژن 2030 منصوبے کے آخری مرحلے کے آغاز کا اعلان

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے وژن 2030 کے آخری مرحلے کے آغاز کا اعلان کیا ہے

ریاض ۔29اپریل (اے پی پی):سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے وژن 2030 کے آخری مرحلے کے آغاز کا اعلان کیا ہے ۔ بی بی سی کے مطابق ولی عہد محمد بن سلمان نے سعودی عرب کی کونسل آف اکنامک اینڈ ڈویلپمنٹ افیئرز کے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ سعودی عرب کا اہم اصلاحاتی منصوبہ وژن 2030 رواں سال اپنے تیسرے اور آخری مرحلے میں داخل ہو جائے گا۔کونسل کے اجلاس میں وژن 2030 سے متعلق پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اس منصوبے کا مقصد سعودی عرب کی معیشت کو متنوع بنانا اور معاشرے کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔لندن سے شائع ہونے والے عرب اخبار الشرق الاوسط کے مطابق سعودی ولی عہد نے کہا کہ عالمی معاشی اور سیاسی بے یقینی کے باوجود وژن 2030 نے نمایاں کامیابیاں حاصل کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہو ا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ منصوبے کے آغاز سے اب تک اور آئندہ بھی اس کی سب سے اہم سرمایہ کاری سعودی شہریوں کی ترقی اور انہیں بااختیار بنانا رہی ہے۔

سعودی شہریوں کی ترقی کو وژن 2030 کا مرکزی نکتہ قرار دینا اس منصوبے کے ابتدائی مرحلے سے ایک تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ 2016 میں منصوبے کے آغاز کے بعد ابتدائی برسوں میں توجہ زیادہ تر سعودی عرب کے تیل پر انحصار کو کم کرنے پر مرکوز تھی۔سعودی ولی عہد کے یہ بیانات سعودی حکام اور میڈیا کی جانب سے وژن 2030 کے حوالے سے ایک وسیع تر بیانیے کا حصہ ہیں جس میں اس منصوبے کے سعودی معاشرے اور قومی شناخت پر اثرات کو اجاگر کیا جا رہا ہے۔یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وژن 2030 کے چند انتہائی اہم منصوبوں کو محدود کر دیا گیا ہے جن میں مستقبل کے شہر نیوم کا منصوبہ بھی شامل ہے۔سعودی اخبار عکاظ نے اپنی ایک رپورٹ میں وژن 2030 کو تیز اور سب سے بڑا منصوبہ قرار دیتے ہوئے اس منصوبے کے سعودی معاشرے پر اثرات کو نمایاں کیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ جب وژن 2030 کا آغاز کیا گیا تو اس کے اہداف صرف معیشت کی تنوع اور غیر تیل آمدن میں اضافے تک محدود نہیں تھے بلکہ یہ اجتماعی شعور، معاشرتی ثقافت اور سماجی فکر کی تشکیلِ نو کا ایک جامع منصوبہ تھا۔ سعودی عرب کے میگا منصوبے نیوم کے حوالے سے تبصرے میں کہا گیا کہ یہ محض ایک رئیل سٹیٹ سرمایہ کاری نہیں بلکہ ایک پیغام ہے کہ مستقبل مقامی سطح پر تعمیر کیا جا رہا ہے۔