صنعا۔23فروری (اے پی پی):سعودی عرب کے مسام پراجیکٹ کے ارکان نے ایک ہفتے کے دوران یمن کے مختلف علاقوں میں مزید 2 ہزار 108 دھماکہ خیز ڈیوائسز کو ناکارہ بنا دیاہے۔ اردو نیوز کے مطابق مسام کے منیجنگ ڈائریکٹر اسامہ القصبی نے بتایا ہے کہ مارب، عدن، الجوف، شبوہ، تعز، الحدیدہ، لحج، صنعا، البیضا، الضالع اور صعدہ میں بارودی سرنگیں ناکارہ بنانے کی کارروائیاں کی گئی ہیں۔ جن میں پھٹنے …
سعودی پراجیکٹ مسام کے تحت یمن میں مزید 2 ہزار 108 دھماکہ خیز ڈیوائسز کو ناکارہ بنا دیا گیا

مزید خبریں
صنعا۔23فروری (اے پی پی):سعودی عرب کے مسام پراجیکٹ کے ارکان نے ایک ہفتے کے دوران یمن کے مختلف علاقوں میں مزید 2 ہزار 108 دھماکہ خیز ڈیوائسز کو ناکارہ بنا دیاہے۔ اردو نیوز کے مطابق مسام کے منیجنگ ڈائریکٹر اسامہ القصبی نے بتایا ہے کہ مارب، عدن، الجوف، شبوہ، تعز، الحدیدہ، لحج، صنعا، البیضا، الضالع اور صعدہ میں بارودی سرنگیں ناکارہ بنانے کی کارروائیاں کی گئی ہیں۔
جن میں پھٹنے سے رہ جانے والا آرڈیننس، اینٹی ٹینک، اینٹی پرسنل بارودی سرنگیں اور دیسی ساختہ دھماکہ خیز ڈیوائسز شامل ہے۔ فروری کے دوران مسام پراجیکٹ نے مائن ایکشن آپریشنز کے ایک حصے کے طور پر 6 ہزارسے زیادہ دھماکہ خیز ڈیوائسز کو ناکارہ بنایا ہے۔ دھماکہ خیز مواد اور بارودی سرنگوں کو بلا تفریق زمین میں بچھایا گیا تھا جو عام لوگوں، خاص طور پر بچوں، خواتین اور عمر رسیدہ افراد کے لیے سنگین خطرہ بن رہا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ 2018 میں پراجیکٹ کے آغاز کے بعد سے اب تک 5 لاکھ 44 ہزار187 بارودی سرنگوں کو ناکارہ بنایا جا چکا ہے۔ پراجیکٹ کے تحت مختلف ٹیموں کو دیہات، سڑکوں اور سکولوں سے بارودی سرنگوں یا دھماکہ خیز مواد کو ناکارہ بنانے کا کام سونپا جاتا ہے تاکہ عام لوگ محفوظ رہتے ہوئے نقل و حرکت کر سکیں اور انسانی امداد کی فراہمی کو آسان بنایا جاسکے۔
مسام پراجیکٹ کے تحت باردوی سرنگیں ناکارہ بنانے والے مقامی انجینئرز کی تربیت کی جاتی ہے اور انہیں جدید آلات فراہم کیے جاتے ہیں جبکہ دھماکہ خیز مواد کی وجہ سے زخمی ہونے والے شہریوں کی مدد بھی کی جاتی ہے۔








