وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ سمندر میں تیل و گیس کی تلاش کے معاہدوں پر دستخط حکومت کی توانائی پالیسی میں ایک تاریخی سنگِ میل ہیں
سمندر میں تیل و گیس کی تلاش کے معاہدوں پر دستخط حکومت کی توانائی پالیسی میں تاریخی سنگِ میل ہیں،وفاقی وزیر پٹرولیم

مزید خبریں
اسلام آباد۔20مئی (اے پی پی):وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ سمندر میں تیل و گیس کی تلاش کے معاہدوں پر دستخط حکومت کی توانائی پالیسی میں ایک تاریخی سنگِ میل ہیں، حکومت آف شور ایکسپلوریشن کی بحالی، سرمایہ کاری کے فروغ اور درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے کے لئے پُرعزم ہے، آف شور پٹرولیم رولز کے نفاذ اور ماڈل پروڈکشن شیئرنگ ایگریمنٹ کے اجراء سے شفافیت اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سمندر میں تیل و گیس کی تلاش کے لئے آف شور بڈ راؤنڈ 2025 کے تحت پروڈکشن شیئرنگ معاہدے اور ایکسپلوریشن لائسنسز کی دستخطی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے پٹرولیم نے اس پیشرفت کو آف شور تلاش کے شعبے کی بحالی، ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ اور درآمدی توانائی پر انحصار کم کرنے کی حکومتی کوششوں میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدے پاکستان کے آف شور اپ سٹریم شعبے پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کا مظہر ہیں جس کا رقبہ 282,623 مربع کلومیٹر پر محیط ہے جبکہ قیام پاکستان سے اب تک یہاں صرف 18 کنویں کھودے گئے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ آف شور بِڈ راؤنڈ کی کامیاب تکمیل اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ حکومت شفاف اور سرمایہ کار دوست ریگولیٹری فریم ورک کے ذریعے پاکستان کو ایک قابلِ اعتماد اور مسابقتی آف شور منزل کے طور پر متعارف کرانے کے لئے پُرعزم ہے۔ اس سلسلے میں آف شور پٹرولیم رولز کا اجراء اور ماڈل پروڈکشن شیئرنگ ایگریمنٹ کو بِڈ پیکیج کا حصہ بنایا گیا تاکہ شفافیت، مسابقت اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید فروغ دیا جا سکے۔ علی پرویز ملک نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ حکومت مقامی توانائی وسائل کی پائیدار ترقی کے لئے مستحکم، شفاف اور سرمایہ کار دوست ماحول فراہم کرتی رہے گی۔پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق ابتدائی تین سالہ لائسنس مدت کے فیز ون میں 82 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری ہو گی، فیز ٹو میں ڈرلنگ تک پیشرفت کی صورت میں مجموعی سرمایہ کاری تقریباً ایک ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے، سندھ اور بلوچستان کی ساحلی حدود سے متصل انڈس اور مکران آف شور بیسنز میں بلاکس الاٹ کئے گئے ہیں۔ اعلامیہ کے مطابق آف شور بڈ راؤنڈ 2025 میں 54 ہزار 600 مربع کلومیٹر رقبے پر محیط 23 بلاکس کی منظوری دی گئی ہے جبکہ دو بلاکس آف شور ڈیپ-C اور آف شور ڈیپ-F کے معاہدے 2 دسمبر 2025 کو وزیراعظم ہاؤس میں طے پا چکے ہیں۔ آج مزید 21 پروڈکشن شیئرنگ معاہدوں پر دستخط کے بعد آف شور بڈ راؤنڈ 2025 کا معاہداتی فریم ورک مکمل ہو گیا ہے۔ ماری انرجیز نے 23 میں سے 18 بلاکس بطور آپریٹر اور 5 بلاکس بطور جوائنٹ وینچر پارٹنر حاصل کئے ہیں، او جی ڈی سی ایل اور پی پی ایل کو آٹھ ایکسپلوریشن بلاکس الاٹ جن میں دو بلاکس بطور آپریٹر شامل ہیں۔ پرائم گلوبل انرجیز کو ایک بلاک بطور آپریٹر الاٹ کیا گیا ہے، یونائیٹڈ انرجی پاکستان لمیٹڈ اور اورینٹ پٹرولیم انکارپوریشن سمیت دیگر جوائنٹ وینچر پارٹنرز می بھی ہیں۔ فیز ون میں سیسمک ڈیٹا اکٹھا کرنے، پروسیسنگ سمیت جیولوجیکل و جیو فزیکل سٹڈیز شامل ہوں گی، مثبت نتائج کی صورت میں فیز ٹو کے تحت سمندر میں تیل و گیس کی تلاش کے لئے ایکسپلوریشن کنویں کھودے جائیں گے، ایوارڈ حاصل کرنے والی کمپنیوں نے سندھ اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں سماجی بہبود اور استعداد کار بڑھانے کے منصوبوں کے لئے بھی نمایاں اقدامات کی یقین دہانی کرائی ہے۔








