اسلام آباد ۔ 07 نومبر (اے پی پی)وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی مشاہد اللہ خان نے کہا ہے کہ سموگ کے پیچھے بنیادی وجہ صنعتی فضلہ، گاڑیاں، اینٹ کے بھٹوں میں استعمال ہونے والا کوئلہ اور فصلوں کو لگنے والی آگ ہے۔ منگل کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ طویل عرصے سے بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے سموگ کا معاملہ بڑھا ہے ۔ انہوں نے …
سموگ کے پیچھے بنیادی وجہ صنعتی فضلہ، گاڑیاں، اینٹ کے بھٹوں میں استعمال ہونے والا کوئلہ اور لگنے والی آگ ہے،وفاقی وزیر مشاہد اللہ خان

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 07 نومبر (اے پی پی)وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی مشاہد اللہ خان نے کہا ہے کہ سموگ کے پیچھے بنیادی وجہ صنعتی فضلہ، گاڑیاں، اینٹ کے بھٹوں میں استعمال ہونے والا کوئلہ اور فصلوں کو لگنے والی آگ ہے۔ منگل کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ طویل عرصے سے بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے سموگ کا معاملہ بڑھا ہے ۔ انہوں نے پیشن گوئی کی کہ اگلے دس روز تک اکثر خطہ سموگ کے زیر اثر رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں سموگ کی شدت کم ہے جو کہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ماحول میں بہتری آئی ہے۔ ماہرین کے مطابق صنعتوں، گاڑیوں اور درختوں کی کٹائی کی وجہ سے صورتحال خراب ہو رہی ہے۔ یہ وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ماحولیاتی آلودگی کے مسئلے سے نمٹنے کیلئے پالیسی تشکیل دے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومتوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ان پالیسیوں پر عملدرآمد کرائے۔ محکمہ موسمیات کے ترجمان محمد حنیف نے اے پی پی کو بتایا کہ آئندہ ہفتے کے دوران ملک کے بالائی علاقوں میں درجہ حرارت میں کمی اور بارش کے بعد سموگ بتدریج کم ہو کر ختم ہو جائے گی جبکہ دھند کا سلسلہ جاری رہے گا۔








