سندھ زرعی یونیورسٹی اور ہوپو کینیڈا کا اشتراک، جدید لائیو اسٹاک ٹیکنالوجی اور کاربن نیوٹرل دیہات کیلئے عملی اقدامات

سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام اور ہوپو کینیڈا کے اشتراک سے منعقدہ سیمینار میں ماہرین، محققین، اساتذہ اور کاروباری شخصیات نے پاکستان کے لائیو اسٹاک شعبے میں مصنوعی ذہانت، کلائمیٹ اسمارٹ ایگریکلچر اور انٹرپرینیورشپ پر مبنی ماڈلز اپنانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ دیہی معیشت کو مستحکم

حیدرآباد۔ 13 مئی (اے پی پی):سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام اور ہوپو کینیڈا کے اشتراک سے منعقدہ سیمینار میں ماہرین، محققین، اساتذہ اور کاروباری شخصیات نے پاکستان کے لائیو اسٹاک شعبے میں مصنوعی ذہانت، کلائمیٹ اسمارٹ ایگریکلچر اور انٹرپرینیورشپ پر مبنی ماڈلز اپنانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ دیہی معیشت کو مستحکم، پیداوار میں اضافہ اور موسمیاتی چیلنجز کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔ سندھ زرعی یونیورسٹی کے سینیٹ ہال میں منعقدہ تربیتی ورکشاپ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر الطاف علی سیال نے کہا کہ “گریز ٹو اون” ماڈل کے تحت طلبہ، ویٹرنری ماہرین، کسانوں، محققین اور دیہی کاروباری افراد کو ایک مربوط نظام میں شامل کیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف زرعی و لائیو اسٹاک پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ نوجوانوں کیلئے روزگار اور کاروباری مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ جدید ڈیجیٹل مانیٹرنگ، سائنسی لائیو اسٹاک مینجمنٹ، ورچوئل ویٹرنری سہولیات اور موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ حکمت عملی کے ذریعے دیہی خاندانوں کی آمدنی میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ ہوپو کینیڈا کی نمائندہ شاستہ کارہارس نے کہا کہ سندھ میں 100 کاربن نیوٹرل دیہات قائم کرنے کا منصوبہ جاری ہے، جس کے تحت 6 پائلٹ دیہات میں عملی کام کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے کا مقصد ماحولیاتی توازن کی بحالی اور دیہی معیشت کو مضبوط بنانا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ “سیکھو اور کماؤ” پروگرام کے تحت طلبہ اور دیہی نوجوانوں کو روزگار اور کاروباری مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں، جبکہ اب تک 44 تحقیقی و عملی منصوبوں اور متعدد اسٹارٹ اپس کی معاونت کی جا چکی ہے۔ ہوپو کے نمائندے نصیر قریشی نے کہا کہ پاکستان کے لائیو اسٹاک سیکٹر میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے، جسے مصنوعی ذہانت، جدید ٹیکنالوجی اور کمیونٹی شمولیت کے ذریعے مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کیلئے مالی معاونت اور کاروباری مواقع کے وسیع امکانات موجود ہیں، جن کے ذریعے موسمیاتی تبدیلی، پانی کی قلت اور غذائی تحفظ جیسے مسائل کا مقامی سطح پر قابلِ عمل حل نکالا جا سکتا ہے۔ فیکلٹی آف کراپ پروٹیکشن کے ڈین اور ہوپو کے سرپرست پروفیسر ڈاکٹر عبدالمبین لودھی نے کہا کہ بین الاقوامی اداروں اور جدید اسٹارٹ اپس کے ساتھ اشتراک طلبہ اور محققین کو جدید ٹیکنالوجی، اطلاقی تحقیق اور کاروباری مہارتوں کے میدان میں قیمتی مواقع فراہم کرے گا۔ سیمینار کے دوران کراچی کے اسٹارٹ اپ “گلوبل اینیمل پاسپورٹ” کی جانب سے مویشیوں کی بائیومیٹرک شناخت کا جدید نظام بھی پیش کیا گیا۔

چیف ایگزیکٹو آفیسر عبدالباسط نے بتایا کہ یہ نظام جانوروں کی ناک کے منفرد بائیومیٹرک پیٹرن کے ذریعے 99 فیصد تک درست شناخت فراہم کرتا ہے، جس سے جانوروں کی چوری، جعلی خرید و فروخت اور ملکیتی تنازعات جیسے مسائل پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ تقریب سے ڈاکٹر عبدالوحید سولنگی، ڈاکٹر خالد حسین ڈھلو، ڈاکٹر منظور علی ابڑو اور ڈاکٹر عبدالغنی لنجار نے بھی خطاب کیا، جبکہ اساتذہ، ماہرین اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

 

مزید خبریں