سندھ طاس معاہدہ کی معطلی سے دونوں ممالک کو سنگین نقصانات کا سامنا کر نا پڑ سکتا ہے، مولانا محمد عاصم مخدوم

لاہور۔28فروری (اے پی پی):چیئرمین کل مسالک علما بورڈ مولانا محمد عاصم مخدوم نے کہا ہے کہ بھارت ہوش کے ناخن لے ، سندھ طاس معاہدہ کی یکطرفہ معطلی سے دونوں ممالک کو سنگین نقصانات کا سامنا کر نا پڑ سکتا ہے جس سے خطے کا امن و امان شدید متاثر ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز اے پی پی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ …

لاہور۔28فروری (اے پی پی):چیئرمین کل مسالک علما بورڈ مولانا محمد عاصم مخدوم نے کہا ہے کہ بھارت ہوش کے ناخن لے ، سندھ طاس معاہدہ کی یکطرفہ معطلی سے دونوں ممالک کو سنگین نقصانات کا سامنا کر نا پڑ سکتا ہے جس سے خطے کا امن و امان شدید متاثر ہوگا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز اے پی پی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ مولانا محمد عاصم مخدوم نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ کی معطلی کے حوالے سے پاکستان کو ممکنہ نقصانات سے متعلق جائزہ لیا جائے تو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ پاکستان کی تقریبا 80 سے 90 فیصد زراعت کا انحصار دریائے سندھ پر ہے، لہذا پانی کی کمی سے گندم، چاول اور کپاس جیسی اہم فصلیں شدید متاثر ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ زراعت ملکی معیشت کا بڑا حصہ ہے، پانی کی قلت سے برآمدات کم اور مہنگائی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ زراعت کے علاہ پن بجلی کے منصوبے جیسے تربیلا ڈیم اور منگلا ڈیم پانی کی کمی سے کم بجلی پیدا کریں گے جس سے توانائی کا بحران بھی پیدا ہوسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ کی معطلی سے ماحولیاتی اور سماجی مسائل بھی جنم لیں گے،پانی کی کمی سے اندرونِ سندھ وجنوبی پنجاب میں خشک سالی اور بے روزگاری میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ مولانا محمد عاصم مخدوم نے کہا کہ معاہدے کی معطلی سے جہاں پاکستان متاثر ہو گا تو وہاں بھارت بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے گا

،معاہدہ یکطرفہ معطل کرنے سے بھارت پر عالمی سطح پر دبائو بڑھ سکتا ہے، خاص طور پر ورلڈ بینک جو اس معاہدے کا ضامن ہے۔انہوں نے کہاکہ پانی کا مسئلہ فوجی اور سیاسی تنائو کو بڑھا سکتا جس سے سرحدی حالات مزیدخراب ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی عدالتوں میں مقدمات اور طویل سفارتی تنازعات بھارت کے لیے مسئلہ بن سکتے ہیں۔ دوسری طرف اگر بھارت زیادہ ڈیم یا ذخائر بنائے تو اس پر بھاری مالی اخراجات آئیں گے جبکہ فوری فائدہ محدود ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ معطل کرنادونوں ممالک کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے لیکن پاکستان کو فوری اور زیادہ براہِ راست اثرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جبکہ بھارت کو زیادہ تر سفارتی اور قانونی دبائو برداشت کرنا پڑے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدہ کی معطلی کسی صورت میں دونوں ممالک کے حق میں نہیں ہے ،اس کے دونوں ممالک سمیت خطے پرمنفی اثرات مرتب ہوں گے ۔

انہوں نے کہا کہ پہلے ہی دونوں ممالک کے تعلقات اتنے حوصلہ افزا نہیں ہیں ،مئی میں ہونے والے معرکہ بنیان مرصوص کے ذریعے پاکستان دنیا پر پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ اگر اس کے مفادات متاثر ہوں گے تو خطے میں پائیدار امن کا خواب کبھی پورا نہیں ہوسکے گا ۔