لاہور۔24مارچ (اے پی پی):پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈاپور نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ کی یکطرفہ معطلی سے بھارت پاکستان کی لائف لائن زراعت کو تباہ کرنا چاہتا ہے،جسے کسی طور پر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز یہاں اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ خرم نواز گنڈاپور نے کہا کہ سندھ طاس …
سندھ طاس معاہدہ کی یکطرفہ معطلی سے بھارت پاکستان کی لائف لائن زراعت کو تباہ کرنا چاہتا ہے، خرم نواز گنڈاپور

مزید خبریں
لاہور۔24مارچ (اے پی پی):پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈاپور نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ کی یکطرفہ معطلی سے بھارت پاکستان کی لائف لائن زراعت کو تباہ کرنا چاہتا ہے،جسے کسی طور پر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز یہاں اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ خرم نواز گنڈاپور نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ کے حوالے سے سفارتی سطح پر مہم چلانے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح قانونی چارہ جوئی کے آپشن کو کسی طور پر نظر انداز نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت، پاکستان کی زراعت کو جو کہ ہمارے ملک کی لائف لائن ہے کو برباد کرنا چاہتا ہے، جس کی اسے قطعی اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ ہی اس ایشو کو کسی طور نظر انداز ہونا چاہیے۔ خرم نواز گنڈاپور نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ کی یکطرفہ معطلی سے دونوں ممالک کو سنگین نقصانات کا سامنا کر نا پڑ سکتا ہے جس سے خطے کا امن و امان بھی متاثر ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ کی معطلی کے حوالے سے پاکستان کو ممکنہ نقصانات کے حوالے سے جائزہ لیا جائے تو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ پاکستان کی تقریبا 80سے 90 فیصد زراعت کا انحصار دریائے سندھ پر ہے لہٰذا پانی کی کمی سے گندم، چاول اور کپاس جیسی اہم فصلیں شدید متاثر ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ زراعت ملکی معیشت کا بڑا حصہ ہے، پانی کی قلت سے برآمدات کم اور مہنگائی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت کے علاہ پن بجلی کے منصوبے جیسے تربیلا ڈیم اور منگلا ڈیم پانی کی کمی سے کم بجلی پیدا کریں گے جس سے توانائی کا بحران بھی پیدا ہوسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ کی معطلی سے ماحولیاتی اور سماجی مسائل بھی جنم لیں گے،پانی کی کمی سے اندرون سندھ اور جنوبی پنجاب میں خشک سالی اور بے روزگاری میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ معاہدے کی معطلی سے جہاں پاکستان متاثر ہو گا تو وہاں بھارت بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے گا ،معاہدہ یکطرفہ معطل کرنے سے بھارت پر عالمی سطح پر دبائو بڑھ سکتا ہے، خاص طور پر ورلڈ بینک جو اس معاہدے کا ضامن ہے۔پانی کا مسئلہ فوجی اور سیاسی تنائو کو بڑھا سکتا ہے، جس سے سرحدی حالات خراب ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی عدالتوں میں مقدمات اور طویل سفارتی تنازعات بھارت کے لیے مسئلہ بن سکتے ہیں۔
دوسری طرف اگر بھارت زیادہ ڈیم یا ذخائر بنائے تو اس پر بھاری مالی اخراجات آئیں گے جبکہ فوری فائدہ محدود ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ معطل کرنادونوں ممالک کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے لیکن پاکستان کو فوری اور زیادہ براہ راست اثرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جبکہ بھارت کو زیادہ تر سفارتی اور قانونی دبا ئو برداشت کرنا پڑے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر سندھ طاس معاہدہ کی معطلی کسی صورت میں بھی دونوں ممالک کے حق میں نہیں ہے ،اس کے دونوں ممالک سمیت خطے پرمنفی اثرات مرتب ہوں گے ۔انہوں نے کہا کہ پہلے دونوں ممالک کے تعلقات اتنے حوصلہ افزا نہیں ہیں ،مئی میں ہونے والے معرکہ بنیان مرصوص کے ذریعے پاکستان دنیا پر پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ اگر اس کے مفادات متاثر ہوں گے تو خطے میں پائیدار امن کا خواب کبھی پورا نہیں ہوسکے گا ۔








