سندھ طاس معاہدے متعلق عالمی ثالثی عدالت کے متفقہ فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی
سندھ طاس معاہدے متعلق عالمی ثالثی عدالت کے متفقہ فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی

مزید خبریں
کوئٹہ۔ 01 ستمبر (اے پی پی):وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے سندھ طاس معاہدے (Indus Waters Treaty) کی حیثیت سے متعلق عالمی ثالثی عدالت کے متفقہ فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے پاکستان کے مؤقف کی اہم قانونی اور سفارتی کامیابی قرار دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ عالمی ثالثی عدالت کا متفقہ فیصلہ اس امر کی واضح توثیق ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل، ختم یا’’التوا‘‘ میں نہیں رکھ سکتا، معاہدہ بدستور نافذ العمل اور بھارت کے لیے قانونی طور پر پابند ہے۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ عدالت نے بھارت کی جانب سے معاہدے کی معطلی یا خاتمے کے لیے پیش کیے گئے مختلف جواز، جن میں خودمختاری، پاکستان کی جانب سے مبینہ خلاف ورزی، دہشت گردی، حالات میں تبدیلی، مسلح تنازع اور جوابی اقدامات شامل تھے، کو تسلیم نہیں کیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدے میں ترمیم یا اس کا خاتمہ صرف پاکستان اور بھارت کی باہمی رضامندی سے ایک نئے معاہدے کے ذریعے ہی ممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ کے پانیوں سے متعلق پاکستان کے دیرینہ حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے یہ فیصلہ نہایت اہم ہے اور اس سے بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری اور عالمی قانون کی بالادستی کے اصول مزید مضبوط ہوئے ہیں۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ رتلے ہائیڈرو الیکٹرک منصوبے کے حوالے سے بھی عدالت کی جانب سے پاکستان کی درخواست پر عبوری اقدامات کی منظوری اہم پیش رفت ہے۔ بھارت کو ڈیم کی دیوار اور پاور انٹیک اسٹرکچر کے مخصوص حصوں پر مقررہ سطح سے زیادہ کنکریٹنگ سے روکا گیا ہے جبکہ منصوبے کے تعمیراتی شیڈول میں ہونے والی تبدیلیوں سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کا بھی پابند کیا گیا ہے۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ یہ پابندیاں نیوٹرل ایکسپرٹ کے حتمی فیصلے کے 90 روز بعد تک برقرار رہیں گی، جو متوقع طور پر جولائی 2027 میں سامنے آئے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ بین الاقوامی قوانین، معاہدوں اور مذاکراتی عمل پر اعتماد کا اظہار کیا ہے اور آج کا فیصلہ اس اصول کی فتح ہے کہ کسی بھی بین الاقوامی معاہدے کو یکطرفہ طور پر اپنی مرضی سے معطل یا ختم نہیں کیا جاسکتا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انصاف غالب آ گیا ہے اور عالمی ثالثی عدالت کا یہ متفقہ فیصلہ پاکستان کے قانونی مؤقف کی مضبوطی کا مظہر ہے۔ پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ اور بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری کے لیے آئندہ بھی ہر قانونی اور سفارتی فورم پر مؤثر کردار ادا کرتا رہے گا۔







