لاہور۔28فروری (اے پی پی):ینگ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین شعیب بٹالوی نے کہا ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستانی زراعت کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے تاکہ اجناس کی عالمی منڈیوں میں پاکستان کی پوزیشن کمزور کی جا سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز بھارت کی سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے اے پی پی سے خصوصی گفتگو …
سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی سے بھارت پاکستانی زراعت کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے ،شعیب بٹالوی

مزید خبریں
لاہور۔28فروری (اے پی پی):ینگ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین شعیب بٹالوی نے کہا ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستانی زراعت کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے تاکہ اجناس کی عالمی منڈیوں میں پاکستان کی پوزیشن کمزور کی جا سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز بھارت کی سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے اے پی پی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو چاہیے کہ وہ عالمی ثالثی فورمز پر موثر انداز میں مقدمہ لڑنے کے ساتھ ساتھ بھارت کی آبی جارحیت کے خلاف سوشل وڈیجیٹل میڈیا پر بھی منظم اور بھرپور حکمت عملی اختیار کرے۔
انہوں نے کہاکہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت لائحہ عمل مرتب کیا جائے جس میں نوجوان اہم کردار ادا کر سکتے ہیں اور یہ ہم سب کی قومی ذمہ داری بھی ہے،اگر بھارت آبی جارحیت پر قائم رہتا ہے تو اس پر اپنی آخری حد تک جانا ہماری قومی ذمہ داری اور اس کے لیے آگاہی ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی کے نتیجے میں طے پایا تھا، جس میں دریائوں کے استعمال کا طریقہ کار تفصیل سے طے کیا گیا۔ ان کا مزیدکہنا تھا کہ اگر بھارت پاکستان کے حصے کا پانی روکتا ہے تو اس سے سندھ اور پنجاب میں زراعت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے، جس کے اثرات ملکی معیشت پر بھی مرتب ہوں گے ۔
شعیب بٹالوی نے کہا کہ پاکستان کو اپنی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بھی بڑھانے کی ضرورت ہے، بڑے ڈیموں کے علاوہ چھوٹے ڈیموں کی تعمیر، سیلابی پانی کو ذخیرہ کرنے اور بارش کے پانی کو محفوظ بنانے جیسے اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹرینز، ماہرین اور نوجوان سوشل میڈیا کے ذریعے عالمی رائے عامہ ہموار کرنے میں کردار ادا کر سکتے ہیں، دوست ممالک، یورپی یونین اور اوآئی سی کو بھی اعتماد میں لیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ محض احتجاج کافی نہیں بلکہ مکمل معلومات، قانونی تیاری اور منظم حکمت عملی ضروری ہے۔








