سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی پاکستان کی زرعی معیشت اور خوراکی تحفظ کے لیے خطرہ ہے، ماہرین

سندھ طاس معاہدہ جنوبی ایشیا کے اہم ترین بین الاقوامی آبی معاہدوں میں شمار ہوتا ہے جو 1960 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان عالمی بینک کی ثالثی میں طے پایا۔اس معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دریاؤں کے پانی کی تقسیم اور استعمال کو منظم کرنا تھا ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ پاکستان کی زرعی معیشت اور آبی سلامتی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔

ملتان۔ 12 مارچ (اے پی پی):سندھ طاس معاہدہ جنوبی ایشیا کے اہم ترین بین الاقوامی آبی معاہدوں میں شمار ہوتا ہے جو 1960 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان عالمی بینک کی ثالثی میں طے پایا۔اس معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دریاؤں کے پانی کی تقسیم اور استعمال کو منظم کرنا تھا ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ پاکستان کی زرعی معیشت اور آبی سلامتی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔سابق چیئرمین پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل و سابق نائب صدر پاکستان سینٹرل کاٹن کمیٹی ڈاکٹر یوسف ظفر (تمغہ امتیاز) نے ’’اےپی پی ‘‘سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے جہاں تقریباً 90 فیصد زرعی سرگرمیاں دریائے سندھ کے نظام اور اس کے بڑے معاون دریاؤں خصوصاً جہلم اور چناب پر انحصار کرتی ہیں۔ان کے مطابق پاکستان کے دریائی نظام میں شامل زیادہ تر پانی ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش کے پہاڑی سلسلوں میں موجود گلیشیئرز اور برفانی ذخائر سے آتا ہےجو گرمیوں میں پگھل کر دریائے سندھ کے بیسن کے ذریعے ملک کے وسیع آبپاشی نظام تک پہنچتا ہے اور لاکھوں ایکڑ اراضی کو سیراب کرتا ہے۔

ڈاکٹر یوسف ظفر نے بتایا کہ حالیہ سائنسی مشاہدات کے مطابق 2000 سے 2021 کے دوران ان علاقوں میں گلیشیئرز کے حجم میں تقریباً 13 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ایسے وقت میں جب موسمیاتی تبدیلی کے باعث پانی کے ذخائر پہلے ہی کم ہو رہے ہیں، بھارت کی جانب سے اپریل 2025 میں معاہدے کی ذمہ داریوں کی یکطرفہ معطلی نے زرعی ماہرین میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔انہوں نے کہا کہ پانی کی معمولی کمی بھی فصلوں کی پیداوار کو نمایاں طور پر متاثر کر سکتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان دنیا کے بڑے آبپاشی نظاموں میں سے ایک چلاتا ہے جس کے لیے سالانہ تقریباً 140 ملین ایکڑ فٹ پانی درکار ہوتا ہے۔یہی نظام ربیع اور خریف دونوں فصلوں کے سیزن کو سہارا دیتا ہے گندم، چاول، کپاس اور گنے جیسی اہم فصلوں کی کاشت ممکن بناتا ہے۔اگر مغربی دریاؤں یعنی سندھ، جہلم اور چناب کے قدرتی بہاؤ میں رکاوٹ پیدا ہوئی تو اس کے اثرات صرف سفارتی سطح تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پاکستان کی زرعی معیشت، خوراکی پیداوار اور دیہی روزگار پر براہِ راست پڑیں گے۔

سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ملتان کے شعبہ ٹیکنالوجی ٹرانسفر کے سربراہ ساجد محمود نے کہا کہ نہری نظام صرف فصلوں کو پانی فراہم نہیں کرتا بلکہ زیرِ زمین پانی کے ذخائر کو بھی ری چارج کرتا ہے۔اگر دریاؤں میں پانی کا بہاؤ کم ہو جائے تو زیرِ زمین پانی کی سطح تیزی سے نیچے چلی جاتی ہے جس کے باعث کسانوں کو ٹیوب ویلوں پر زیادہ انحصار کرنا پڑتا ہے۔اس صورتحال میں بجلی اور ڈیزل کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں جو چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسانوں کے لیے شدید مالی بوجھ بن سکتے ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کسی مرحلے پر پانی روک کر بعد میں اچانک بڑی مقدار میں چھوڑا جائے تو اس سے سیلاب کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے جس سے فصلیں، دیہی انفراسٹرکچر اور لاکھوں ایکڑ زرعی زمین متاثر ہو سکتی ہے۔دوسری جانب پانی کے کم بہاؤ کی صورت میں دریاؤں کے ساتھ آنے والی زرخیز مٹی بھی کھیتوں تک نہیں پہنچ پاتی جس سے زمین کی طویل مدتی زرخیزی متاثر ہوتی ہے۔ماہرین کے مطابق پانی کا مسئلہ صرف زراعت تک محدود نہیں بلکہ یہ قومی سلامتی کا بھی اہم پہلو ہے۔

زرعی پیداوار میں کمی سے خوراک کی قلت، مہنگائی میں اضافہ اور درآمدات پر انحصار بڑھ سکتا ہے جبکہ لاکھوں دیہی افراد کے روزگار بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔مزید برآں کپاس کی پیداوار میں کمی ٹیکسٹائل صنعت اور برآمدات پر بھی منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ڈاکٹر یوسف ظفر اور ساجد محمود نے اس بات پر زور دیا کہ انڈس واٹر ٹریٹی کو صرف سفارتی معاہدہ نہیں بلکہ پاکستان کے مستقبل کے لیے ایک اہم ستون کے طور پر محفوظ بنانا ہوگا۔ان کے مطابق پاکستان کو چاہیے کہ اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر سفارتی اور قانونی اقدامات کرے اور عالمی فورمز پر مضبوط سائنسی و تکنیکی شواہد کے ساتھ اپنا مؤقف پیش کرے۔انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ ملک کے اندر پانی کے بہتر انتظام، نئے ڈیموں اور ذخائر کی تعمیر، آبپاشی نظام کی جدت اور پانی کے مؤثر استعمال کے لیے جدید زرعی ٹیکنالوجی کے فروغ جیسے اقدامات ناگزیر ہیں۔ماہرین کے مطابق پانی اور زراعت کا تحفظ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اگر پانی کے وسائل محفوظ رہیں گے تو پاکستان کی زراعت ترقی کرے گی مضبوط زراعت ہی ملک کی معاشی اور خوراکی سلامتی کی ضمانت ہے۔

مزید خبریں
نائب وزیراعظم
پاکستان کو سخاوت، رضاکارانہ خدمات اور معاشرتی خدمت کی اپنی دیرینہ روایات پر فخر ہے، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا انسانی ہمدردی کے عالمی دن کے موقع پر پیغام اسلام آباد۔19اگست (اے پی پی):نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ عالمی یومِ انسانی ہمدردی کے موقع پر پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر ان تمام انسانی خدمت گاروں اور رضاکاروں کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے جو ضرورت کے وقت لوگوں کی مدد کے لیے خود کو وقف کردیتے ہیں۔ بدھ کو دفتر خارجہ کے مطابق انسانی ہمدردی کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ یہ دن ہمیں ہمدردی، خدمت اور آفات و دیگر ہنگامی حالات سے متاثرہ افراد کے ساتھ کھڑے ہونے کی اہمیت کی یاد دلاتا ہے۔ نائب وزیراعظم نے کہا کہ یہ اس عزم کی تجدید کا موقع بھی ہے کہ ہم اجتماعی طور پر کمزور اور متاثرہ طبقات کی مدد اور انسانیت کی خدمت کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو سخاوت، رضاکارانہ خدمات اور معاشرتی خدمت کی اپنی دیرینہ روایت پر فخر ہے، یہ اقدار ہمارے معاشرے میں گہری جڑیں رکھتی ہیں اور مشکلات کے وقت ہمیشہ ہمارے لوگوں کو متحد کرنے کا باعث بنی ہیں۔ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں آنے والی آفات کے حوالے سے ہمارے تجربے نے بارہا پاکستانی عوام کی استقامت، یکجہتی اور جذبۂ تعاون کو ثابت کیا ہے، شہریوں نے وفاقی اور صوبائی اداروں کے ساتھ مل کر متاثرہ آبادیوں کی مدد، امداد اور بحالی کی کوششوں میں بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس موقع پر میں انسانی خدمت کے لیے سرگرم تمام افراد کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں اور ہمدردی، یکجہتی اور انسانیت کی خدمت کے اصولوں سے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتا ہوں