سندھ میں زرعی ویلیو ایڈیشن اور فوڈ پراسیسنگ سے نوجوانوں کیلئے انٹرپرینئورشپ اور کسانوں کیلئے ترقی کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں، ماہرین

سندہ زرعی یونیورسٹی میں آگہی سیشن کے دوران زرعی ماہرین نے کہا ہے کہ سندھ میں ٹماٹر، آم، کھجور، مرچ، پیاز اور دیگر سبزیوں و پھلوں کی ویلیو ایڈیشن، فوڈ پراسیسنگ اور برآمدات کے فروغ کے ذریعے نہ صرف کسانوں کی آمدنی میں نمایاں اضافہ کیا جاسکتا ہے بلکہ زرعی معیشت کو مستحکم کرنے، غذائی ضیاع کم کرنے اور نوجوانوں کیلئے زرعی انٹرپرینیورشپ کے نئے مواقع بھی پیدا کئے جاسکتے …

حیدرآباد۔ 20 مئی (اے پی پی):سندہ زرعی یونیورسٹی میں آگہی سیشن کے دوران زرعی ماہرین نے کہا ہے کہ سندھ میں ٹماٹر، آم، کھجور، مرچ، پیاز اور دیگر سبزیوں و پھلوں کی ویلیو ایڈیشن، فوڈ پراسیسنگ اور برآمدات کے فروغ کے ذریعے نہ صرف کسانوں کی آمدنی میں نمایاں اضافہ کیا جاسکتا ہے بلکہ زرعی معیشت کو مستحکم کرنے، غذائی ضیاع کم کرنے اور نوجوانوں کیلئے زرعی انٹرپرینیورشپ کے نئے مواقع بھی پیدا کئے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ زرعی پیداوار کے لحاظ سے انتہائی اہم صوبہ ہے، تاہم سبزیوں اور پھلوں کی پراسیسنگ، پیکجنگ، کولڈ چین، ویلیو چین ڈویلپمنٹ اور عالمی معیار کے مطابق ایکسپورٹ پر توجہ دے کر پاکستان قیمتی زرمبادلہ حاصل کرسکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار ماہرین نے سندھ زرعی یونیورسٹی کے انسٹیٹیوٹ آف فوڈ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی میں منعقدہ سیمینار اور آگہی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا گیا جس میں سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے سندھ ریسرچ سپورٹ پروگرام کے تحت “ڈیولپمنٹ آف ٹومیٹو بائی پروڈکٹس ایز فنکشنل فوڈز” کے عنوان سے تحقیقی منصوبے کے نتائج پیش کئے گئے۔ سیمینار سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے ڈین فیکلٹی آف کراپ پروڈکشن ڈاکٹر عنایت اللہ راجپر نے کہا کہ سندھ میں پیدا ہونے والی سبزیوں اور پھلوں کو جدید فوڈ پراسیسنگ ٹیکنالوجی کے ذریعے ویلیو ایڈڈ مصنوعات میں تبدیل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹماٹر، آم، کھجور، دودھ اور دیگر زرعی اجناس سے جوس، پاؤڈر، پیوری، خشک مصنوعات اور دیگر بائی پراڈکٹس تیار کرکے مقامی اور عالمی مارکیٹ میں متعارف کرایا جاسکتا ہے جس سے کسانوں کو بہتر قیمت ملنے کے ساتھ زرعی برآمدات میں بھی اضافہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہر سال بڑی مقدار میں سبزیاں اور پھل مناسب پراسیسنگ اور ذخیرہ نہ ہونے کی وجہ سے ضائع ہوجاتے ہیں جبکہ جدید فوڈ پراسیسنگ، کولڈ اسٹوریج اور ویلیو چین سسٹم کے ذریعے اس نقصان کو کم کیا جاسکتا ہے۔ پروجیکٹ کے پرنسپل انویسٹی گیٹر ڈاکٹر شہزور گل خاصخیلی نے اپنی تحقیق پیش کرتے ہوئے بتایا کہ مطالعے میں ٹماٹر پاؤڈر، جوس اور کیچپ کا غذائی خصوصیات، اینٹی آکسیڈنٹ سرگرمی، ذائقہ، معیار اور 60 روزہ کولڈ اسٹوریج استحکام کے حوالے سے تقابلی جائزہ لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ تحقیق کے مطابق ٹماٹر جوس میں اینٹی آکسیڈنٹس اور وٹامن سی کی مقدار سب سے زیادہ پائی گئی کیونکہ اس میں حرارتی پراسیسنگ کم کی گئی تھی، جبکہ ٹماٹر پاؤڈر میں پروٹین، منرلز اور ایش مواد کی مقدار زیادہ ریکارڈ کی گئی۔انہوں نے مزید بتایا کہ ٹماٹر کیچپ غذائی معیار کے لحاظ سے نسبتاً کمزور ثابت ہوا جس کی بڑی وجہ زیادہ حرارت اور چینی و نمک کی آمیزش ہے۔ ڈاکٹر شہزور گل نے سفارش کی کہ زیادہ غذائی فوائد کیلئے تازہ ٹماٹر جوس جبکہ زیادہ شیلف لائف اور منرلز کیلئے ٹماٹر پاؤڈر کو فروغ دیا جانا چاہئے۔ انہوں نے فوڈ انڈسٹری پر زور دیا کہ ٹماٹر سمیت دیگر زرعی اجناس کی ضمنی مصنوعات کو فنکشنل فوڈ اجزاء کے طور پر استعمال کرکے غذائی ضیاع کم اور مصنوعی اینٹی آکسیڈنٹس پر انحصار محدود کیا جائے۔سیمینار میں اساتذہ، محققین اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جبکہ اختتام پر مہمانوں اور تحقیقی ٹیم کی خدمات کے اعتراف میں شیلڈز اور اجرک کے تحائف بھی پیش کئے گئے۔