سندھ پبلک سروس کمیشن بھرتیوں کا کیس ، وفاقی آئینی عدالت نے درخواست نمٹا دی، اعتراضات متعلقہ ہائیکورٹ میں اٹھانے کی ہدایت
سندھ پبلک سروس کمیشن بھرتیوں کا کیس ، وفاقی آئینی عدالت نے درخواست نمٹا دی، اعتراضات متعلقہ ہائیکورٹ میں اٹھانے کی ہدایت

مزید خبریں
اسلام آباد۔30جون (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت نے سندھ پبلک سروس کمیشن کی جانب سے بھرتیوں سے متعلق دائر درخواست نمٹاتے ہوئے قرار دیا ہے کہ درخواست گزار اپنے تمام اعتراضات متعلقہ ہائیکورٹ کے سامنے اٹھائیں جہاں مقدمہ زیر سماعت ہے۔چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں جسٹس عامر فاروق پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔سماعت کے دوران جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ سندھ ہائیکورٹ نے ابھی مقدمے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا بلکہ صرف عبوری حکم جاری کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ ہائیکورٹ کے 14 مئی کے حکم امتناع کو چیلنج نہیں کیا گیا جبکہ وفاقی آئینی عدالت کے سامنے صرف 22 جون کا حکم زیر بحث ہے۔
سندھ پبلک سروس کمیشن کے وکیل حافظ احسان کھوکھر نے موقف اختیار کیا کہ سندھ ہائیکورٹ نے 2024ء کے پبلک سروس کمیشن امتحان کا ریکارڈ طلب کر رکھا ہے اور کامیاب امیدواروں کے انٹرویوز کے خلاف حکم امتناع بھی جاری کیا ہوا ہے جس سے کامیاب امیدواروں کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے۔ اس پر جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ ہائیکورٹ نے ریکارڈ غالباً جائزہ لینے کے لیے طلب کیا ہوگا اور اگر درخواست گزار کو کسی بھی حکم یا کارروائی پر اعتراض ہے تو وہ تمام نکات سندھ ہائیکورٹ کے سامنے اٹھائے جائیں۔دلائل مکمل ہونے کے بعد وفاقی آئینی عدالت نے سندھ پبلک سروس کمیشن کی درخواست نمٹا دی۔








