سندھ پولیس نے لاڑکانہ میں 15 سالہ خونی قبائلی دشمنی کا خاتمہ کر کے تاریخ رقم کردی،وزیر داخلہ سندھ

صوبائی وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجارنے کہا ہے کہ سندھ پولیس نے لاڑکانہ میں 15 سالہ خونی قبائلی دشمنی کا خاتمہ کر کے تاریخ رقم کردی، جیہو اور دھانی قبائل کے بدنام زمانہ ملزمان قانون کے سامنے سرنگوں، ہیڈ منی والے اشتہاری بھی شامل ہیں۔دونوں قبائل کے 28 افراد نے ہتھیار ڈال کر خود کو قانون کے حوالے کردیا، تمام ملزمان عدالتوں کا سامنا کریں گے

لاڑکانہ۔ 18 جولائی (اے پی پی):صوبائی وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجارنے کہا ہے کہ سندھ پولیس نے لاڑکانہ میں 15 سالہ خونی قبائلی دشمنی کا خاتمہ کر کے تاریخ رقم کردی، جیہو اور دھانی قبائل کے بدنام زمانہ ملزمان قانون کے سامنے سرنگوں، ہیڈ منی والے اشتہاری بھی شامل ہیں۔دونوں قبائل کے 28 افراد نے ہتھیار ڈال کر خود کو قانون کے حوالے کردیا، تمام ملزمان عدالتوں کا سامنا کریں گے۔انہوں نے کہا کہ 15 سالہ دشمنی میں 25 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، متعدد افراد زخمی ہوئے، اب امن نے نفرت کو شکست دے دی،خونی تنازع کے باعث 2 ہزار ایکڑ زرعی زمین ویران اور 3 دیہات اجڑ گئے تھے،آج معمولات زندگی بحال ہونا شروع ہوگئے،لاڑکانہ پولیس کی غیرجانبدار اور بلاامتیاز کارروائی نے دونوں قبائل کو صلح اور قانون کی راہ پر لے آیا۔وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ سندھ پولیس نے صرف مجرموں کو گرفتار نہیں کیا بلکہ نسلوں پر محیط دشمنی کا بھی خاتمہ کردیا،امن دشمن عناصر کے لیے واضح پیغام، سندھ میں قانون سے کوئی بالاتر نہیں۔انہوں نے کہا ایس ایس پی لاڑکانہ کی دلیرانہ قیادت، معاملہ فہمی اور پیشہ ورانہ حکمت عملی قابلِ تحسین ہے،لاڑکانہ پولیس نے ثابت کردیا کہ طاقت قانون کی ہے،بندوق کی نہیں،جیہو اور دھانی قبائل کے درمیان صلح سندھ پولیس کی تاریخی کامیابی اور عوام کے اعتماد کی فتح ہے۔وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ امن کے قیام پر ایس ایس پی لاڑکانہ اور پوری پولیس ٹیم شاباش کی مستحق ہے،امن قائم ہوگا تو ترقی آئے گی،ریاست کی رٹ ہر قیمت پر برقرار رکھی جائے گی،لاڑکانہ میں امن کی بحالی سندھ حکومت اور سندھ پولیس کے موثر ویژن اور مضبوط حکمت عملی کا ثمر ہے۔