لاہور۔18جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر وچیئرمین پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر رانا محمد قاسم نون نے شہدا کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہدا کے بارے میں نامناسب بیانات قابل مذمت ہیں، پوری قوم ان کی قربانیوں کی مقروض ہے،مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے بغیر جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن ممکن نہیں،سیاسی استحکام ہی معاشی خوشحالی کی بنیاد ہے، موجودہ حکومت نے مشکل معاشی حالات اور …
شہدا کے بارے نامناسب بیانات قابل مذمت ہیں،مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن ممکن نہیں، محمد قاسم نون

مزید خبریں
لاہور۔18جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر وچیئرمین پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر رانا محمد قاسم نون نے شہدا کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہدا کے بارے میں نامناسب بیانات قابل مذمت ہیں، پوری قوم ان کی قربانیوں کی مقروض ہے،مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے بغیر جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن ممکن نہیں،سیاسی استحکام ہی معاشی خوشحالی کی بنیاد ہے، موجودہ حکومت نے مشکل معاشی حالات اور آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط کے باوجود بہترین بجٹ پیش کیا ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان سے ملاقات کے دوران خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر لاہور چیمبر کے سینئر وائس صدر تنویر احمد شیخ، وائس صدر خرم لودھی، سابق صدر میاں انجم نثار اور ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان بھی موجود تھے۔وفاقی وزیر نے لاہور چیمبر آف کامرس کو ملکی معیشت کا اہم ادارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ 45 ہزار سے زائد اراکین پر مشتمل یہ ادارہ قومی معیشت اور تجارت کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے چیمبر کی قیادت اور بزنس کمیونٹی کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف بھی لاہور چیمبر کے صدر رہ چکے اور کاروباری شعبے سے ان کی وابستگی سب پر واضح ہے۔رانا محمد قاسم نون نے کہا کہ موجودہ بجٹ زمینی حقائق اور معاشی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے، اس لیے اس کا جائزہ بھی انہی حقائق کی روشنی میں لیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری کے جائز مطالبات وزیر خزانہ اور متعلقہ قیادت تک پہنچائیں گے،جی ایس پی پلس سمیت دیگر تجارتی مواقع سے بھرپور استفادہ کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فوج، پولیس اور عوام کی بے مثال قربانیاں دی ہیں، ایک لاکھ سے زائد پاکستانی شہید ہوئے جبکہ ملک کو اربوں ڈالر کا معاشی نقصان برداشت کرنا پڑا، تاہم پاکستان آج بھی دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن ریاست کا کردار ادا کر رہا ہے۔انہوں نے شہدا کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہدا کے بارے میں نامناسب بیانات قابل مذمت ہیں، پوری قوم شہدا کی قربانیوں کی مقروض ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پہلگام واقعے کے بعد بھارت نے بغیر کسی تحقیقات کے پاکستان کے خلاف جارحیت کا راستہ اختیار کیا، تاہم پاکستان نے بھرپور جواب دیا اور پوری قوم نے اتحاد کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ معرکہ حق میں کامیابی کے بعد سفارتی محاذ پر بھی پاکستان کو اہم کامیابیاں حاصل ہوئیں، جن کا کریڈٹ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے نتیجے میں مسئلہ کشمیر ایک بار پھر عالمی سطح پر نمایاں ہوا، پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی میں بھی مثبت کردار ادا کیا اور یہ کامیابیاں دشمن سے برداشت نہیں ہورہی ہیں، یہی وجہ ہے کہ دشمن عناصر اب ملک میں بدامنی کی سازشیں کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہا ہے، لاکھوں کشمیریوں کو بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے، نوجوان جیلوں میں بند اور جعلی ڈومیسائل کے ذریعے آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل نکالا جائے اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں بھارتی مظالم کے خلاف آواز بلند کریں۔رانا محمد قاسم نون نے کہا کہ بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا، جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا، جنوبی ایشیاء میں دیرپا امن قائم نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے،جسے پاکستان نے عالمی فورمز پر بھرپور انداز میں اٹھایا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت نہ صرف خطے بلکہ دیگر ممالک میں بھی مداخلت ودہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث اور اپنی اقلیتوں، بالخصوص کشمیریوں وسکھوں کے ساتھ ناروا سلوک بھی کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے خلاف سازشیں جاری ہیں، تاہم حکومت دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم اور تمام متعلقہ ادارے اس مقصد کے لیے متحد ہیں۔اس موقع پر لاہور چیمبر کے سینئر وائس صدر تنویر احمد شیخ نے کہا کہ مضبوط معیشت ہی مستحکم ریاست کی بنیاد ہوتی ہے ، کاروباری برادری قومی معیشت کے استحکام میں اپنا بھرپور کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج دہشت گردی کے خلاف خصوصا خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں عظیم قربانیاں دے رہی ہیں، مسئلہ کشمیر پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون اور جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن اس کے منصفانہ حل سے وابستہ ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ دو دہائیوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے قومی معاشی پالیسی کے تسلسل کے لیے "چارٹر آف اکانومی” کی ضرورت پر بھی زور دیا۔







