اقوام متحدہ ۔7اپریل (اے پی پی):اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے اداروں نے خبردار کیا ہے کہ سوڈان میں جاری ڈرون حملے شہریوں کی جانیں لے رہے ہیں، اہم انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور ملک میں پہلے سے سنگین انسانی بحران کو مزید گہرا کر رہے ہیں۔شنہوا کے مطابق اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور (اوسی ایچ اے ) کے مطابق حملوں کا رخ اب گنجان …
سوڈان میں ڈرون حملوں کے باعث شہریوں کی جانوں کو خطرہ لاحق ہے ، اقوام متحد ہ
مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔7اپریل (اے پی پی):اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے اداروں نے خبردار کیا ہے کہ سوڈان میں جاری ڈرون حملے شہریوں کی جانیں لے رہے ہیں، اہم انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور ملک میں پہلے سے سنگین انسانی بحران کو مزید گہرا کر رہے ہیں۔شنہوا کے مطابق اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور (اوسی ایچ اے ) کے مطابق حملوں کا رخ اب گنجان آباد علاقوں اور طبی مراکز کی طرف بڑھ رہا ہے، جس کے باعث بنیادی سہولیات تک رسائی مزید محدود ہو گئی ہے، جبکہ تنازع اپنے تیسرے سال میں داخل ہونے والا ہے۔اوسی ایچ اے نے بتایا کہ ریاست وائٹ نائل میں گزشتہ جمعرات کو الجبلین اسپتال پر ڈرون حملے کے نتیجے میں 10 طبی عملہ ہلاک اور 22 افراد زخمی ہوئے، جس سے طبی خدمات شدید متاثر ہوئیں۔اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹر ی جنرل برائے انسانی امور ٹام فلیچر نے سوشل میڈیا پر بیان میں طبی عملے اور مراکز کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی انسانی قانون اس کا تقاضا کرتا ہے۔
اوسی ایچ اے کے مطابق یہ واقعات سوڈان میں صحت کے شعبے پر حملوں کے وسیع سلسلے کا حصہ ہیں۔ عالمی ادارہ صحت نے تنازع کے آغاز سے اب تک صحت کی سہولیات پر 200 سے زائد حملوں کی تصدیق کی ہے، جن میں 2 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں ہی 13 حملوں میں 184 افراد ہلاک اور تقریباً 300 زخمی ہوئے۔مزید کہا گیا کہ بڑھتی ہوئی بدامنی کے باعث نقل مکانی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ عالمی ادارہ برائے مہاجرت کے مطابق فروری کے وسط سے مارچ کے آخر تک 10 ہزار سے زائد افراد کرمک کے علاقے سے بے گھر ہوئے، جن میں سے کئی ہمسایہ ملک ایتھوپیا منتقل ہو گئے۔
اوسی ایچ اے نے بتایا کہ ریاستی دارالحکومت ایڈ دماذین میں پناہ لینے والے خاندانوں کو خوراک، صحت اور رہائش کی شدید قلت کا سامنا ہے، جبکہ خواتین اور بچے تشدد اور استحصال کے بڑھتے خطرات سے دوچار ہیں۔ادارے کے مطابق مشکلات کے باوجود امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔ اقوام متحدہ کے سوڈان ہیومینیٹیرین فنڈ نے تقریباً 20 کروڑ ڈالر مختص کیے ہیں تاکہ 40 لاکھ افراد کو زندگی بچانے والی امداد فراہم کی جا سکے۔رپورٹ کے مطابق حالیہ مہینوں میں 16 لاکھ سے زائد افراد دارالحکومت خرطوم واپس لوٹے ہیں، تاہم جنگی باقیات اور تباہ شدہ انفراسٹرکچر اب بھی سنگین خطرات پیدا کر رہے ہیں۔اقوام متحدہ نے فوری جنگ بندی، شہریوں اور طبی سہولیات کے تحفظ اور بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی پر زور دیا ہے۔








