سپریم کورٹ نے ٹیکس قوانین کے ایک اہم مقدمے میں یہ اصول واضح کر دیا ہے کہ سٹاک ان ٹریڈ (Stock-in-Trade) کی تعریف کسی بھی صورت جامد نہیں بلکہ اس کا انحصار اس کے تجارتی استعمال، نوعیت اور قانونی سیاق و سباق پر ہوگا۔رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق جسٹس عقيل احمد عباسی کی سربراہی میں لارجر بینچ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا
سٹاک ان ٹریڈ کی تشریح اور صنعتی جنریٹرز کی قانونی حیثیت پر سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ جاری
اسلام آباد۔18جون (اے پی پی):سپریم کورٹ نے ٹیکس قوانین کے ایک اہم مقدمے میں یہ اصول واضح کر دیا ہے کہ سٹاک ان ٹریڈ (Stock-in-Trade) کی تعریف کسی بھی صورت جامد نہیں بلکہ اس کا انحصار اس کے تجارتی استعمال، نوعیت اور قانونی سیاق و سباق پر ہوگا۔رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق جسٹس عقيل احمد عباسی کی سربراہی میں لارجر بینچ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ صنعتی یونٹس میں نصب کیے گئے جنریٹرز جو پیداوار کے عمل کو چلانے کے لیے بطور کیپیٹل اثاثہ استعمال ہوتے ہیں، لازماً ’’سٹاک ان ٹریڈ‘‘ کے زمرے میں نہیں آتے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ماضی کے فیصلے اٹک سیمنٹ (Attock Cement )کیس میں ’’سٹاک ان ٹریڈ‘‘ کی تشریح کو اس کے اصل قانونی اور تجارتی سیاق سے ہٹ کر سمجھا گیا جس کی وجہ سے اس اصول کا ازسرنو جائزہ ضروری ہو گیا۔عدالت کے مطابق سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 اور متعلقہ ایس آر اوز کے تحت کسی بھی مشینری یا درآمدی سامان پر ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ یا ریفنڈ کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ وہ شے کاروباری ڈھانچے میں بطور سرمایہ جاتی اثاثہ استعمال ہو رہی ہے یا قابل فروخت مال کے طور پر۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ جنریٹر یا بھاری مشینری اگر فیکٹری کی پیداوار کو چلانے کے لیے مستقل نصب ہو تو اسے عام تجارتی ’’سٹاک ان ٹریڈ‘‘ تصور نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اسے کیپٹل مشینری کے طور پر پرکھا جائے گا۔عدالت نے اس کیس کو ٹیکس قانون میں ایک اہم رہنما اصول قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ آئندہ اسی نوعیت کے تنازعات میں ہر معاملے کو اس کے مخصوص حقائق اور معاشی کردار کی بنیاد پر پرکھا جائے گا۔









