کاشتکاروں کے مختلف حلقوں کے درمیان مضبوط روابط کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے ،وزیر زراعت و لائیوسٹاک پنجاب

وزیر زراعت و لائیوسٹاک پنجاب سید عاشق حسین کرمانی نے کہا ہے کہ حکومت پنجاب نے رواں مالی سال کے دوران اکنامک ٹرانسفارمیشن کے فروغ کے لیے75 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقدہ ایگری کنیکٹ ورکشاپ سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔

لاہور۔18جون (اے پی پی):وزیر زراعت و لائیوسٹاک پنجاب سید عاشق حسین کرمانی نے کہا ہے کہ حکومت پنجاب نے رواں مالی سال کے دوران اکنامک ٹرانسفارمیشن کے فروغ کے لیے75 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقدہ ایگری کنیکٹ ورکشاپ سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ورکشاپ میں سیکرٹری زراعت پنجاب افتخار علی سہو، ورلڈ بینک کے پریکٹس منیجر ربیح کاراکی زرعی ماہرین، نجی شعبے کے نمائندگان اور دیگر سٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔ ورکشاپ میں زرعی پیداوار، ویلیو چین کی بہتری اور ویلیو ایڈیشن کے فروغ سے متعلق مختلف امور پر بات کی گئی۔ سید عاشق حسین کرمانی نے کہا کہ زرعی میکانائزیشن کا فروغ وزیراعلی پنجاب کی اولین ترجیح ہے۔ اس ضمن میں گزشتہ 2سال کے دوران صوبائی حکومت نے زرعی میکانائزیشن کے فروغ کے لیے70 ارب روپے خرچ کیے ہیں ۔ وزیر زراعت پنجاب نے کہا کہ وفاقی و صوبائی حکومتوں اور نجی شعبے کے فعال کردار کے باعث زراعت کے شعبے میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں زرعی مصنوعات کی ویلیو چین کو مضبوط بنانے اور ویلیو ایڈیشن کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کاشتکاروں کے مختلف حلقوں کے درمیان مضبوط روابط کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ کسانوں کی آمدنی میں اضافہ اور زرعی معیشت کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔سید عاشق حسین کرمانی نے کہا کہ موجودہ حکومت کسانوں کو کاروباری مواقع فراہم کرنے اور انہیں جدید منڈیوں سے جوڑنے کے لیے موثر اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غذائی تحفظ اور سٹریٹجک ذخائر کے قیام کے لیے نجی شعبے کو بھی شراکت دار بنایا جا رہا ہے تاکہ زرعی شعبے میں پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔اس موقع پر سیکرٹری زراعت پنجاب نے کہا کہ پائیدار زرعی ترقی کے لیے حکومت، نجی شعبے اور کسانوں کے درمیان موثر شراکت داری ناگزیر ہے۔ انہوں نے پنجاب میں ایگریکلچر ٹرانسفارمیشن پروگرام کے لیے ورلڈ بینک کے تعاون کو قابلِ ستائش قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس اشتراک سے زرعی شعبے میں جدید اصلاحات اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ ورلڈ بینک کے پریکٹس منیجر نے کہا کہ ایگری کنیکٹ کا بنیادی مقصد ایگری بزنس کے فروغ، سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرنے اور روزگار میں اضافے کو یقینی بنانا ہے۔ ورکشاپ کے اختتام پر شرکا نے زرعی شعبے میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ، ویلیو ایڈیشن اور جدید کاروباری ماڈلز کے فروغ کے حوالے سے اپنی تجاویز پیش کیں اور زرعی ترقی کے لیے مشترکہ کاوشوں کے عزم کا اعادہ کیا۔