عورت فائونڈیشن نے ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے علاقائی اور عالمی امن کی جانب ایک عظیم پیش رفت قرار دیا ہے۔ ایگزیکٹو کونسل کے اجلاس کے بعد جاری پریس بیان میں کہا گیا کہ تاریخ کے اس اہم لمحے کا پوری دنیا اور امن پسند انسانیت کو
عورت فائونڈیشن کی جانب سے ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کا خیرمقدم

مزید خبریں
اسلام آباد۔18جون (اے پی پی):عورت فائونڈیشن نے ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے علاقائی اور عالمی امن کی جانب ایک عظیم پیش رفت قرار دیا ہے۔ ایگزیکٹو کونسل کے اجلاس کے بعد جاری پریس بیان میں کہا گیا کہ تاریخ کے اس اہم لمحے کا پوری دنیا اور امن پسند انسانیت کو شدت سے انتظار تھا، اس امید افزاء پیش رفت نے ثابت کیا ہے کہ عالمی طاقت کے ڈھانچے اور عوامی سطح پر اب بھی عقل و دانش کی بالادستی قائم ہے اور اگر انسان متحد ہو جائیں تو دنیا کو ممکنہ خطرات سے محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔عورت فائونڈیشن کا کہنا ہے کہ تباہ کن جنگ کے دوران ایران کے عوام بشمول سکول جانے والی بچیاں، شیر خوار بچے اور ملک کی اعلیٰ ترین قیادت نے ایسی بے مثال قربانیاں دی ہیں جن کی مثال مشرق وسطیٰ کی گزشتہ ایک ہزار سالہ تاریخ میں مشکل سے ملتی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ ہم ایرانی عوام کی استقامت، ثابت قدمی اور عظیم قربانیوں کو عقیدت و احترام کے ساتھ سلام پیش کرتے ہیں۔
عورت فائونڈیشن اس بات پر پختہ یقین رکھتی ہے کہ پائیدار امن صرف مکالمے، سفارت کاری، باہمی احترام اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں کی پاسداری کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے، عوام سے عوام کے درمیان امن مذاکرات کے راستے کو بھی فروغ دیا جانا چاہیے۔ عورت فائونڈیشن پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی انتھک، قابل ستائش اور موثر کاوشوں کو سراہتی ہے جن کی مدبرانہ قیادت اور علاقائی امن سے وابستگی نے اس تاریخی جنگ بندی کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا، ایسے وقت میں جب دنیا ایک ممکنہ تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر کھڑی تھی، ان کی کوششیں بین الاقوامی سطح پر امن اور استحکام کے فروغ میں پاکستان کے مثبت اور تعمیری کردار کی عکاس ہیں۔عورت فائونڈیشن پرامید ہے کہ یہ اہم پیش رفت عالمی امن، سلامتی اور اقوام کے درمیان باہمی تعاون کے فروغ میں موثر کردار ادا کرے گی۔
ہم دعا گو ہیں کہ اس نوع کی کوششیں ایسا سازگار ماحول پیدا کریں جس سے انسانی حقوق کے فروغ اور تمام انسانوں کی فلاح و بہبود کو تقویت ملے، بالخصوص خواتین، بچوں اور دیگر کمزور و محروم طبقات کو جن کی زندگیاں تنازعات اور عدم استحکام سے سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔عورت فائونڈیشن نے تنازع کے دوران خلیجی ممالک اور لبنان میں متاثر ہونے والے تمام شہریوں بالخصوص خواتین، بچوں، بزرگوں اور دیگر کمزور طبقات سے اظہار یکجہتی اور انسانی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس کرتے ہوئے زور دیتے ہوئے کہا کہ امن اور مفاہمتی عمل میں خواتین کی بامعنی شرکت، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1325 اور خواتین، امن و سلامتی کے عالمی ایجنڈے کے مطابق، پائیدار امن کے لیے ناگزیر ہے۔








