بی ایل اے بلوچستان میں علاقائی رابطوں اور معاشی خوشحالی کو نشانہ بنا رہی ہے، رپورٹ

کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے بلوچستان میں سیکورٹی فورسز اور شہریوں کے خلاف اپنی دہشت گرد کارروائیوں میں اضافہ کر دیا ہے جس میں اہم انفراسٹرکچر، شاہراہوں، سپلائی گاڑیوں اور ٹرانسپورٹ نظام کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اسلام آباد۔18جون (اے پی پی):کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے بلوچستان میں سیکورٹی فورسز اور شہریوں کے خلاف اپنی دہشت گرد کارروائیوں میں اضافہ کر دیا ہے جس میں اہم انفراسٹرکچر، شاہراہوں، سپلائی گاڑیوں اور ٹرانسپورٹ نظام کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ سیکیورٹی اور سرکاری ذرائع کے مطابق اس گروہ کا بنیادی مقصد خطے کو معاشی طور پر مفلوج کرنا اور اہم تجارتی راہداریوں کو سبوتاژ کرنا ہے۔ترک پبلک براڈکاسٹر ٹی آر ٹی میں شائع ہونے والے ایک تجزیے کے مطابق بی ایل اے ایک دہشت گرد تنظیم کی کلاسیکی تعریف پر پورا اترتی ہےجس کے آپریشنل طرزِ عمل میں القاعدہ اور داعش جیسے عالمی دہشت گرد گروہوں سے مشابہت بڑھتی جا رہی ہے۔ گروہ کی حکمتِ عملی تجارت کو متاثر کرنے، حکومتی نظام کو روکنے اور روزمرہ زندگی کو مشکل بنانے پر مرکوز ہے۔بلوچستان جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور مغربی چین کو جوڑنے والا ایک اہم زمینی پل ہے اور بحیرہ عرب تک رسائی کے لیے گوادر بندرگاہ ایک بنیادی گیٹ وے کی حیثیت رکھتی ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) جو 62 ارب ڈالر کا بڑا منصوبہ ہے، اسی نیٹ ورک کا مرکزی حصہ ہے۔

یہ راہداری چینی صنعتی مراکز سے یورپی منڈیوں تک سفر کا وقت 45 دن سے کم کر کے 10 دن تک لے آتی ہے۔تاہم بی ایل اے کی جانب سے ٹرانسپورٹ راستوں، توانائی تنصیبات اور چینی منصوبوں کو نشانہ بنانے سے سیکیورٹی اور نقل و حمل کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے جس کے باعث بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے اعتماد پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ بلوچستان کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل عطاء اعجاز گورایا نے کہا کہ جب ٹرینوں، شاہراہوں اور مال بردار گاڑیوں کو بار بار نشانہ بنایا جائے تو یہ واضح ہے کہ مقصد صرف ریاست سے مقابلہ نہیں بلکہ عوام کو یہ سوچنے پر مجبور کرنا ہے کہ وہ علاقے میں سرمایہ کاری اور کاروبار سے گریز کریں۔صوبائی قیادت کے مطابق اس تشدد کا سب سے زیادہ بوجھ عام شہری اٹھا رہے ہیں کیونکہ ترقیاتی منصوبوں کی رفتار سست ہونے سے مقامی آبادی روزگار، بنیادی سہولیات اور معاشی مواقع سے محروم ہو رہی ہے۔وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ٹرانسپورٹ اور تجارت کو جاری رکھنے والے مقامی تاجروں اور ٹرک ڈرائیوروں کی جرات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ٹرانسپورٹ راستوں اور معاشی سرگرمیوں کو نشانہ بنانا براہِ راست عام بلوچ شہریوں کے روزگار کو متاثر کرتا ہے۔

عالمی دہشت گردی انڈیکس 2026 کے مطابق پاکستان میں 2025 کے دوران 1139 دہشت گردی سے متعلق اموات ریکارڈ کی گئیں جو ایک دہائی میں سب سے زیادہ ہیں جبکہ بلوچستان میں گزشتہ سال دہشت گردی کے واقعات کا بڑا حصہ رپورٹ ہوا۔پاکستان متعدد بار بھارت پر اس گروہ کی معاونت کا الزام عائد کرتا رہا ہے۔ ای سی ایل اے سی کے مطابق مارچ 2025 میں جعفر ایکسپریس کے اغوا سے قبل ریلوے پر کم از کم 18 حملے ہو چکے تھے جس کے باعث ریلوے سروسز بار بار معطل کرنا پڑیں۔بین الاقوامی سطح پر مختلف ممالک نے بھی بی ایل اے کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے، جن میں امریکہ (اگست 2025)، آسٹریلیا (مئی 2026) اور برطانیہ (جولائی 2026) شامل ہیں۔ماہرین کے مطابق بی ایل اے کی سرگرمیاں بلوچستان میں ایسی صورتحال پیدا کر رہی ہیں جو خطے کی معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور علاقائی روابط کو متاثر کرتی ہیں اور عالمی سپلائی چینز کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہیں۔

 

مزید خبریں