چیئرپرسن وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسانی پاکستان کی زیرصدارت او آئی سی محتسب ایسوسی ایشن کی ذیلی کمیٹی برائے حقوق خواتین کا دوسرا اجلاس

او آئی سی محتسب ایسوسی ایشن (او آئی سی او اے) کی ذیلی کمیٹی برائے حقوق خواتین کا دوسرا اجلاس جمعرات کو وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسانی (فوسپاہ) کے ہیڈ آفس اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں رکن ممالک کے نمائندوں

اسلام آباد۔18جون (اے پی پی):او آئی سی محتسب ایسوسی ایشن (او آئی سی او اے) کی ذیلی کمیٹی برائے حقوق خواتین کا دوسرا اجلاس جمعرات کو وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسانی (فوسپاہ) کے ہیڈ آفس اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں رکن ممالک کے نمائندوں نے آن لائن شرکت کی۔اجلاس کی صدارت وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسانی پاکستان (فوسپاہ) کی چیئرپرسن فوزیہ وقار نے کی جبکہ اس کا مقصد اسلامی ممالک میں صنفی بنیادوں پر ادارہ جاتی تحفظات کو فروغ دینا، شکایات کے ازالے کے نظام کو مضبوط بنانا اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے قانونی ہم آہنگی پیدا کرنا تھا۔اجلاس میں ایران، ترکیہ، آذربائیجان، ٹوگو، بحرین اور بینن سمیت رکن ممالک کے محتسب اداروں کے سربراہان اور نمائندوں نے شرکت کی جبکہ پاکستان سے پنجاب اور خیبر پختونخوا کے محتسب دفاتر کے ترجمان بھی شریک ہوئے۔ تنزانیہ اور روانڈا نے بطور مبصر اجلاس میں شرکت کی۔

اجلاس میں او آئی سی او اے کی جانب سے تیار کردہ ایک جامع تشخیصی دستاویز (مجموعہ قوانین) پیش کی گئی جو رکن ممالک میں موجود قانونی ڈھانچے کا تقابلی جائزہ فراہم کرتی ہے اور صنفی امتیاز کے خاتمے کے لیے ادارہ جاتی اصلاحات کی نشاندہی کرتی ہے۔او آئی سی او اے کے ایگزیکٹو سیکرٹری الماس علی جووندہ نے اس دستاویز کو محض قانونی فہرست کے بجائے ایک عملی اور تجرباتی خاکہ قرار دیا جس کے ذریعے مختلف ریاستوں میں انتظامی انصاف کے نفاذ کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے رکن ممالک میں خواتین کے تحفظ کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال، قانون سازی میں اصلاحات اور سیاسی و سماجی شمولیت جیسے اقدامات کو بھی اجاگر کیا۔روانڈا کی ہائی کمشنر ہاریریمانا فاتو نے صنفی مساوات کے فروغ کے لیے اپنے ملک کے اقدامات بیان کرتے ہوئے کہا کہ روانڈا میں گائوں سے لے کر مرکزی سطح تک صنفی بنیادوں پر بجٹ سازی کا نظام موجود ہے۔

انہوں نے لڑکیوں کی تعلیم میں حائل رکاوٹوں کے خاتمے اور علاقائی تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔اجلاس کے دوران شرکا نے نظامی جوابدہی کو بہتر بنانے کے لیے علاقائی قوانین، پالیسیوں اور بہترین انتظامی طریقوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ چیئرپرسن فوزیہ وقار نے اپنے خطاب میں شکایات کے رجحانات کے تجزیے، ازالہ جاتی نظام کے جائزے اور قانونی و پالیسی خلا کی نشاندہی کو اہم قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ محتسب اداروں کا ردعمل خواتین کے لیے تیز، منصفانہ اور قابل رسائی ہونا چاہیے تاکہ یہ واضح کیا جا سکے کہ موجودہ نظام کہاں بہتری کا متقاضی ہے۔ انہوں نے او آئی سی او اے پلیٹ فارم کے ذریعے پاکستان کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ ادارہ جاتی اصلاحات اور خواتین کے وقار و معاشی خودمختاری کے تحفظ کے لیے علاقائی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔

 

مزید خبریں