سٹیٹ بنک نے زرعی قرضوں کی واپسی کی مدت 5 سال سے بڑھا کر10 سال کردی، سرکلر جاری

اسلام آباد ۔ 25 جولائی (اے پی پی) سٹیٹ بنک آف پاکستان نے زرعی قرضوں کی واپسی کی مدت 5 سال سے بڑھا کر10 سال کردی ہے۔اس ضمن میں سٹیٹ بنک کے ایگری کلچر کریڈٹ اینڈ مائیکروفنانس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے تمام بنکوں، سپیشلائزڈبنکوں اور ڈی ایف آئیز کے صدور اورچیف ایگزیکٹو آفسران کے نام سرکلر میں کہاگیا ہے کہ پروڈینشئیل ریگولیشنز برائے زرعی قرضہ جات کے تحت فارم ڈویلپمنٹ، …

اسلام آباد ۔ 25 جولائی (اے پی پی) سٹیٹ بنک آف پاکستان نے زرعی قرضوں کی واپسی کی مدت 5 سال سے بڑھا کر10 سال کردی ہے۔اس ضمن میں سٹیٹ بنک کے ایگری کلچر کریڈٹ اینڈ مائیکروفنانس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے تمام بنکوں، سپیشلائزڈبنکوں اور ڈی ایف آئیز کے صدور اورچیف ایگزیکٹو آفسران کے نام سرکلر میں کہاگیا ہے کہ پروڈینشئیل ریگولیشنز برائے زرعی قرضہ جات کے تحت فارم ڈویلپمنٹ، مشینری اورآلات کیلئے قرضوں کے ضابطہ آر 13 اور قرضوں کی واپسی کی مدت سے متعلق ر یگولیشن آر15 میں ترمیم کردی گئی ہے۔سرکلر کے مطابق پروڈینشئیل ریگولیشنز برائے زرعی قرضہ جات پر نظرثانی کے بعد بنکوں ، ڈی ایف آئیز کی جانب سے فصلوں اورنان کراپ شعبوں میں ترقیاتی قرضوں میں اضافہ کی حوصلہ افزائی کیلئے ترقیاتی قرضوں کی واپسی کی زیادہ سے زیادہ مدت 5 سال سے بڑھا کر 10 سال کردی گئی ہے۔ تاہم بنک قرض شدہ پراڈکٹ کی نوعیت، مشینری اورآلات کی مفید استعمال کے عرصہ اورقرضہ لینے والے کی واپسی کی استعداد کی بنیادپر بورڈ آف ڈائریکٹرز کی منظوری سے کسی پراڈکٹ کے حقیقی عرصہ بارے فیصلہ کرسکتے ہیں۔ اس ضمن میں پروڈینشئیل ریگولیشنز برائے زرعی قرضہ جات کے ضابطہ آر 13 اور ر یگولیشن آر15 میں ضروری ترمیم کردی گئی ہے۔ اس سرکلرکا اطلاق تمام بنکوں اورڈی ایف آئیز پر فوری طورپر ہوگا۔

مزید خبریں