اسلام آباد۔16مارچ (اے پی پی):سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی جانب سے مائیکرو فنانس بینکوں کے لیے کم لاگت مکانات، درمیانے اور چھوٹے کاروباری اداروں کو قرضوں کی فراہمی میں مزید سہولیات کے اقدامات۔ سٹیٹ بینک نے کم لاگت مکانات اور چھوٹے کاروباروں کی قرضوں تک آسان رسائی میں اضافہ کے ضمن میں مائیکروفنانس بینکوں کے لیے محتاطیہ ضوابط پر نظرثانی کی ہے۔ ترجمان سٹیٹ بینک کے مطابق …
سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے مائیکرو فنانس بینکوں کے لیے کم لاگت مکانات، درمیانے اور چھوٹے کاروباری اداروں کو قرضوں کی فراہمی میں مزید سہولیات کے اقدامات

مزید خبریں
اسلام آباد۔16مارچ (اے پی پی):سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی جانب سے مائیکرو فنانس بینکوں کے لیے کم لاگت مکانات، درمیانے اور چھوٹے کاروباری اداروں کو قرضوں کی فراہمی میں مزید سہولیات کے اقدامات۔ سٹیٹ بینک نے کم لاگت مکانات اور چھوٹے کاروباروں کی قرضوں تک آسان رسائی میں اضافہ کے ضمن میں مائیکروفنانس بینکوں کے لیے محتاطیہ ضوابط پر نظرثانی کی ہے۔
ترجمان سٹیٹ بینک کے مطابق توقع ہے کہ نظرثانی شدہ ضوابط سے کم آمدنی والے طبقات کے لیے کم لاگت مکانات، درمیانے اور چھوٹے کاروباری اداروں (ایم ایس ایز) کے قرضوں کی لاگت میں کمی آئے گی۔
نظرثانی شدہ محتاطیہ ضوابط سے ایس ایم ایز اور ہاؤسنگ فنانس کے اجزا بالخصوص نظرانداز شعبوں میں قرضوں کی عموما ً پوری نہ ہونے والی طلب کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا۔ محتاطیہ ضوابط کی ترامیم میں جائیداد کی مالیت کا تعین، رہن کی تخلیق اور خطرے کے انتظام (رسک مینجمنٹ) کے حوالہ سے اضافی رہنمائی شامل کی گئی ہے تاکہ مائیکرو انٹرپرائز کو فنانسنگ کی فراہمی میں احتیاط یقینی بنائی جا سکے۔
اس کے ساتھ ساتھ قرضہ کے ہر زمرہ کے لیے غیرفعال قرضوں کے حوالے سے درجہ بندی اور منسوخی کی علیحدہ شرائط بھی تجویز کی گئی ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ مائیکرو فنانس بینک کم آمدنی والے طبقات خاص طور پر ایم ایس ایز اور کم لاگت مکانات والے اجزا کو مالی خدمات فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق سال 2021ء کے اختتام پر مائیکرو فنانس بینکوں سے قرض حاصل کرنے والوں کی تعددا 4.6 ملین سے زائد تھی جن کے واجب الادا قرضوں کا پورٹ فولیو 290 ارب روپے سے زیادہ تھا۔ اس میں سے 6 لاکھ 74 ہزار سے زیادہ ایم ایس ایز اور 75 ہزار مکانات کے قرضہ جات شامل ہیں۔
مجموعی قرضوں کا حجم بالترتیب 77 ارب روپے اور 20 ارب روپے ہے۔ جس سے کم مالی سہولتوں کے حامل شعبوں خصوصاً دیہی اور دور دراز علاقوں کی مالی ضروریات پوری کرنے کے حوالہ سے مائیکرو فنانس بینکوں کی صلاحیت اجاگر ہوتی ہے۔








