وزیرِ مملکت برائے سمندر پار پاکستانی و انسانی وسائل کی ترقی عون چوہدری نے پاکستان تحریکِ انصاف کی قیادت پر زور دیا ہے کہ وہ سیاسی پختگی اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملک کے مفاد کو ترجیح دے
پی ٹی آئی سیاسی پختگی اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملکی مفاد کو ترجیح دے، عون چوہدری

مزید خبریں
اسلام آباد۔5جولائی (اے پی پی):وزیرِ مملکت برائے سمندر پار پاکستانی و انسانی وسائل کی ترقی عون چوہدری نے پاکستان تحریکِ انصاف کی قیادت پر زور دیا ہے کہ وہ سیاسی پختگی اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملک کے مفاد کو ترجیح دے، اپنے مطالبات پیش کرنے سے پہلے پارلیمان میں مؤثر کردار ادا کرے۔اتوار کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عون چوہدری نے کہا کہ حکومت پاکستان تحریکِ انصاف کے تحفظات سننے کے لیے تیار ہے، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ پارٹی پہلے سیاسی سنجیدگی اور بالغ نظری کا ثبوت دے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے انتخابات میں حصہ لیا مگر بعد میں اپنی پارلیمانی ذمہ داریاں ادا کرنے کے بجائے استعفے دے دیئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ نہ تو پارلیمان میں بامعنی شرکت کو یقینی بناتے ہیں اور نہ ہی ایوان میں عوامی مسائل اٹھاتے ہیں، جمہوری سیاست اس انداز سے نہیں چلتی۔ عون چوہدری نے کہا کہ حکومت نے متعدد بار پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیشکش کی مگر بامقصد بات چیت اسی وقت ممکن ہے جب پارٹی سنجیدہ اور ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں، لیکن پی ٹی آئی کو پہلے جمہوری اور پارلیمانی سیاست سے اپنی حقیقی وابستگی ثابت کرنا ہوگی۔ گلگت بلتستان کے انتخابی نتائج اور کشمیر سے متعلق سیاسی بیانیے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں وزیرِ مملکت نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری ایک قابلِ احترام سیاسی رہنما ہیں اور ان کے ساتھ ہونے والی بات چیت مثبت رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ مشاورت کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی نے گلگت بلتستان سے متعلق بعض تحفظات اور مطالبات کو تسلیم کیا۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ پیپلز پارٹی آئندہ بھی اتحادی جماعت کے طور پر وسیع تر سیاسی فریم ورک میں مل کر کام کرتی رہے گی۔عون چوہدری نے کہا کہ اگر کوئی سیاسی رہنما انتخابی مہم کے دوران کوئی بیان دیتا ہے تو یہ اس کا جمہوری حق ہے۔انہوں نے کہا کہ انتخابی مہمات کے دوران سیاسی بیانیے سامنے آنا ایک معمول کی بات ہے جس میں کشمیر سمیت مختلف علاقوں کے معاملات بھی شامل ہوتے ہیں۔ اگر کسی خطے میں عوام کی خواہشات کے مطابق تبدیلی آتی ہے تو اس پر کوئی اعتراض نہیں، بشرطیکہ وہ عوامی امنگوں اور مرضی کی عکاسی کرتی ہو۔انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے لیے قومی استحکام اولین ترجیح ہے اور ملک کو مضبوط سمت دینے کے لیے سیاسی اتحاد اور یکجہتی ناگزیر ہے۔








