سٹیٹ بینک آف پاکستان کی رہنمائی میں بینکاری و مالیاتی تعلیم کے شعبے میں بین الصوبائی نصاب ورکشاپ مکمل ، ملک بھر سے ماہرین نصاب اور متعلقہ اداروں کے نمائندگان کی شرکت

سٹیٹ بینک آف پاکستان کی رہنمائی میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف بینکنگ اینڈ فنانس پاکستان کے زیراہتمام بینکاری و مالیاتی تعلیم کے شعبے میں بین الصوبائی نصاب ورکشاپ مکمل ہو گئی

اسلام آباد۔10ستمبر (اے پی پی):سٹیٹ بینک آف پاکستان کی رہنمائی میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف بینکنگ اینڈ فنانس پاکستان کے زیراہتمام بینکاری و مالیاتی تعلیم کے شعبے میں بین الصوبائی نصاب ورکشاپ مکمل ہو گئی ۔ ورکشاپ میں ملک بھر سے ماہرین نصاب اور متعلقہ اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ورکشاپ میں قومی و صوبائی نصاب میں مالیاتی خواندگی کو شامل کرنے کے حوالے سے پیشرفت کا جائزہ لیاگیا اور آئندہ کے لائحہ عمل کو حتمی شکل دیدی گئی۔سٹیٹ بینک کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ اقدام فنانشل لٹریسی انٹیگریشن پروجیکٹ کے تحت جاری ہے جو مئی 2024 میں منعقدہ نیشنل کانفرنس آن ایجوکیشن ایمرجنسی کے موقع پر وزیراعظم کی ہدایت پر شروع کیا گیا تھا۔ منصوبے کا مقصد ابتدائی جماعتوں سے ہی تعلیمی نظام میں مالیاتی خواندگی کو شامل کرنا اور بچوں کو کم عمری سے ہی ذاتی مالی معاملات سے متعلق بنیادی اور عملی معلومات و مہارتوں سے آراستہ کرنا ہے۔ گزشتہ دو برس کے دوران اس منصوبے کے تحت قومی، صوبائی اور علاقائی نصاب مرتب کرنے والے اداروں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر لایا گیا تاکہ نئی نسل کو عملی مالیاتی علم اور ضروری صلاحیتوں سے آراستہ کرنے کے لئے ایک مربوط اور یکساں طریقہ کار وضع کیا جاسکے۔ دو روزہ بین الصوبائی نصابی کریکلم ورکشاپ میں پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان، آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور وفاقی/قومی نصاب کونسل ونگ سے نصاب اور متعلقہ مضامین کے ماہرین نے شرکت کی۔ تفصیلی تکنیکی مشاورت کے بعد ماہرین نے تقریباً 180 متفقہ مالیاتی خواندگی کے طلبہ کے تعلیمی نتائج مرتب کئے جنہیں متعلقہ قومی و صوبائی نصاب مرتب کرنے والے اداروں کی جانب سے منظوری/اعلان اور نصاب میں شمولیت کے لئے پیش کیا جائے گا۔ نصاب میں مالیاتی خواندگی کے انضمام کے ذریعے پاکستان کے مستقبل کی تشکیل کے عنوان سے منعقدہ اختتامی تقریب کے مہمان خصوصی وفاقی سیکرٹری وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت ندیم محبوب تھے۔ تقریب میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف بینکنگ اینڈ فنانس پاکستان کی چیف ایگزیکٹو آفیسر لبنیٰ فاروق ملک ، وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے نیشنل کریکولم کونسل ونگ کی ڈائریکٹر ڈاکٹر تبسم ناز ، وفاقی و صوبائی نصاب اتھارٹیز کے نمائندگان، تعلیمی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں اور دیگر اہم متعلقہ شخصیات نے شرکت کی۔ فنانشل لٹریسی انٹیگریشن پراجیکٹ کی پیش رفت پر روشنی ڈالتے ہوئے منصوبے کے ڈائریکٹر سلمان شہزاد نے کہا کہ گزشتہ دو برس کے دوران نصاب سے متعلق قومی، صوبائی اور علاقائی اداروں سمیت دیگر متعلقہ شراکت داروں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر لانے کے لئے بھرپور کوششیں کی گئیں، جس کا مقصد مالیاتی خواندگی کو الگ الگ اور محدود نوعیت کی سرگرمیوں تک رکھنے کے بجائے اسے ایک منظم، مربوط اور پائیدار نصابی عمل کا حصہ بنانا ہے۔ نالج پلیٹ فارم کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور بانی محبوب محمود نے مالیاتی خواندگی اور اکیسویں صدی کی مہارتیں کے موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے مالیاتی صلاحیت، تنقیدی سوچ، باخبر فیصلہ سازی، ڈیجیٹل مہارت اور کاروباری صلاحیت کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلق کو اجاگر کیا۔ نیشنل کریکولم کونسل ونگ کے نکتہ نظر آگاہ کرتے ہوئے ڈاکٹر تبسم ناز نے قومی، صوبائی اور علاقائی نصاب مرتب کرنے والے اداروں کے درمیان موثر رابطے اور تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ نصاب میں اصلاحات کے ذریعے تعلیمی نظام میں مالیاتی خواندگی کے یکساں اور بامعنی انضمام کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ پروجیکٹ کنسلٹنٹ نگہت لون نے نصاب میں اصلاحات کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مالیاتی خواندگی سے متعلق تصورات کو ایسی عملی معلومات اور صلاحیتوں میں تبدیل کرنا ضروری ہے جو طلبہ کو مستقبل میں مالی معاملات کے حوالے سے بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد دے سکیں۔ وفاقی سیکرٹری وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت ندیم محبوب نے مالیاتی خواندگی اور قومی ترجیحات کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مالیاتی خواندگی پاکستان کی وسیع تر تعلیمی اور ترقیاتی ترجیحات کے حصول میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اس سے مالی شمولیت، ذمہ دار شہری رویوں، معاشی استحکام اور آئندہ نسلوں کو بااختیار بنانے میں مدد ملے گی۔ اختتامی کلمات میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف بینکنگ اینڈ فنانس پاکستان پ کی چیف ایگزیکٹو آفیسر لبنیٰ فاروق ملک نے مالیاتی خواندگی کے فروغ کے لئے ادارہ جاتی تعاون، جدت اور جامع طریقہ کار کے ذریعے اپنی وابستگی کا اعادہ کیا۔ انہوں نے نصابی اصلاحات کو طلبہ کے لئے بامعنی تعلیمی نتائج میں تبدیل کرنے کے لئے مسلسل اور مربوط کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ اس اقدام کے تحت جامع مالیاتی تعلیم کے عزم کو بھی نمایاں کیا گیا، جس کے تحت خصوصی افراد کی نمائندگی اور شرکت کو یقینی بنایا گیا جبکہ تقریب کی کارروائی کے دوران اشاروں کی زبان میں ترجمانی کی سہولت بھی فراہم کی گئی۔ تقریب کے اختتام پر پاکستان بھر سے شریک نصاب مرتب کرنے والے اداروں اور شراکت دار تنظیموں کی خدمات کو سراہا گیا۔ صوبوں اور علاقوں، نیشنل کریکولم کونسل ونگ اور فنانشل لٹریسی انٹیگریشن پراجیکٹ کے لئے معاونت فراہم کرنے والے اہم شراکت داروں کے نمائندگان میں اعزازی شیلڈز بھی تقسیم کی گئیں۔

مزید خبریں