سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ، دعویٰ شفعہ میں طلبِ مواثبت کی مکمل تفصیلات لازمی قرار
سپریم کورٹ،حقِ شفعہ کا دعویٰ مسترد ،ٹرائل کورٹ کا فیصلہ بحال

مزید خبریں
اسلام آباد۔24جون (اے پی پی):سپریم کورٹ نے حقِ شفعہ (Pre-emption) سے متعلق ایک اہم مقدمے میں قرار دیا ہے کہ دعویٰ شفعہ میں طلبِ مواثبت کی تاریخ، وقت اور مقام کا واضح طور پر ذکر کرنا قانونی طور پر لازمی ہے بصورت دیگر دعویٰ برقرار نہیں رہ سکتا۔ عدالت نے پشاور ہائی کورٹ اور اپیلیٹ کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا دعویٰ مسترد کرنے کا فیصلہ بحال کر دیا۔
تفصیلی تحریری فیصلہ کے مطابق جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل تین رکنی بنچ نے شیرزالی و دیگر بنام سعد اللہ خان مقدمے کا تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔ فیصلہ جسٹس شاہد بلال حسن نے تحریر کیا۔عدالت کے مطابق سعد اللہ خان نے کوہاٹ میں 6 کنال 8 مرلہ اراضی کے انتقال کے خلاف حقِ شفعہ کا دعویٰ دائر کیا تھا اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ فروخت کی اطلاع ملنے پر انہوں نے فوری طور پر طلبِ مواثبت اور بعد ازاں طلبِ اشہاد کی کارروائی مکمل کی تاہم ٹرائل کورٹ نے دعویٰ اس بنیاد پر مسترد کر دیا تھا کہ درخواست میں طلبِ مواثبت کی تاریخ اور مقام کا ذکر نہیں کیا گیا تھا۔بعد ازاں اپیلیٹ کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر دعویٰ منظور کر لیا تھا جس کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ حقِ شفعہ ایک کمزور اور نازک حق ہے جس کے استعمال کے لئے قانون میں مقرر تمام تقاضوں کی سختی سے پابندی ضروری ہے۔ عدالت نے کہا کہ طلبِ مواثبت دعویٰ شفعہ کی بنیاد ہے اور اس کے وقت، تاریخ اور مقام کا واضح ذکر اور ثبوت ناگزیر ہے۔ اگر یہ بنیادی تقاضا پورا نہ ہو تو بعد کی تمام کارروائیاں قانونی حیثیت کھو دیتی ہیں۔عدالت نے متعدد سابقہ عدالتی نظائر کا حوالہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ درخواست میں طلبِ مواثبت کی لازمی تفصیلات شامل نہ ہونا دعویٰ کے لئے مہلک نقص ہے اور بعد میں پیش کیا جانے والا کوئی ثبوت اس کمی کو پورا نہیں کر سکتا۔سپریم کورٹ نے مزید قرار دیا کہ فروخت کی اطلاع ملنے کے ذرائع کی مکمل کڑی بھی ثابت نہیں کی گئی جس سے طلبِ مواثبت کی قانونی حیثیت مزید مشکوک ہو جاتی ہے۔عدالت نے نتیجتاً اپیل منظور کرتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ اور اپیلیٹ کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دے دیئے اور ٹرائل کورٹ کا دعویٰ مسترد کرنے کا فیصلہ بحال کر دیا۔ فیصلے کے مطابق حقِ شفعہ کے دعوؤں میں قانونی تقاضوں کی معمولی خلاف ورزی بھی دعویٰ کے خاتمے کا سبب بن سکتی ہے۔








