اسلام آباد۔22اکتوبر (اے پی پی):سپریم کورٹ کے آئینی بنچ نے چھبیسویں آئینی ترمیم کے خلاف دائر درخواستوں پر وکیل خواجہ احمد حسین کے دلائل مکمل ہونے پر سماعت جمعرات تک ملتوی کردی ۔سپریم کورٹ میں چھبیسویں آئینی ترمیم کے خلاف دائر درخواستوں پر آٹھ رکنی آئینی بینچ کے روبرو سماعت ہوئی۔ بینچ کی سربراہی جسٹس امین الدین خان نے کی جبکہ جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس …
سپریم کورٹ، 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف کیس کی سماعت جمعرات تک ملتوی

مزید خبریں
اسلام آباد۔22اکتوبر (اے پی پی):سپریم کورٹ کے آئینی بنچ نے چھبیسویں آئینی ترمیم کے خلاف دائر درخواستوں پر وکیل خواجہ احمد حسین کے دلائل مکمل ہونے پر سماعت جمعرات تک ملتوی کردی ۔سپریم کورٹ میں چھبیسویں آئینی ترمیم کے خلاف دائر درخواستوں پر آٹھ رکنی آئینی بینچ کے روبرو سماعت ہوئی۔ بینچ کی سربراہی جسٹس امین الدین خان نے کی جبکہ جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ اے ملک، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شاہد بلال حسن بینچ کا حصہ ہیں۔سماعت کے دوران جسٹس عائشہ ملک نے آرٹیکل 191 اے ون اور 191 اے تھری کا حوالہ دیتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ان آرٹیکلز میں کوئی قدغن نہیں، یہ محض پروسیجرل نوعیت کے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان آرٹیکلز کو اس انداز میں نہیں پڑھا جانا چاہیے جیسے یہ سپریم کورٹ کے اختیارات کو محدود کرتے ہوں۔جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے کہ اگر 16 ججز بیٹھیں تو وہ ریگولر بینچ ہوگا، آئینی بینچ نہیں۔ اس موقع پر وکیل خواجہ احمد حسین نے مؤقف اختیار کیا کہ کیس فل کورٹ کے سامنے مقرر کیا جانا چاہیے کیونکہ اس سے ادارے کی ساکھ کو تقویت ملے گی۔-جسٹس جمال خان مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا آپ موجودہ بینچ پر اعتماد نہیں کر رہے؟ جس پر وکیل نے وضاحت کی کہ وہ بینچ پر عدم اعتماد نہیں کر رہے بلکہ چاہتے ہیں کہ یہ اہم آئینی معاملہ فل کورٹ کے روبرو سنا جائے۔
وکیل نے مزید کہا کہ آئین میں کہیں نہیں لکھا کہ ایک آئینی بینچ فل کورٹ کو معاملہ ریفر نہیں کرسکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی ترمیم کے ذریعے سپریم کورٹ کے اختیارات محدود بھی کردیے جائیں تب بھی فیصلہ سپریم کورٹ ہی کرے گی کیونکہ ادارہ اپنی جگہ موجود ہے۔خواجہ احمد حسین نے اپنے دلائل مکمل کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کے پاس آرڈر جاری کرنے کا اختیار ہے اور وہ معاملہ فل کورٹ کو ریفر کرسکتی ہے۔ ان کے مطابق اگر آئینی ترمیم کے لوازمات پورے نہیں ہوئے تو بینچ کی تشکیل بھی متاثر ہوسکتی ہے۔بعدازاں بینچ نے وکیل کے دلائل مکمل ہونے کے بعد کیس کی سماعت جمعرات تک ملتوی کردی۔








