اسلام آباد۔29اکتوبر (اے پی پی):سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے شبلی فراز کیس میں پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ ہائیکورٹ فریقین کو سن کر زیرِ التوا درخواست پر فیصلہ کرے، عدالتِ عظمیٰ نے سینیٹ الیکشن روکنے کی درخواست بھی مسترد کردی۔جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں پانچ رکنی آئینی بینچ نے شبلی فراز کی جانب سے الیکشن کمیشن کے ڈی سیٹ کرنے …
سپریم کورٹ ،شبلی فراز کیس میں پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم، سینیٹ الیکشن روکنے کی استدعا مسترد

مزید خبریں
اسلام آباد۔29اکتوبر (اے پی پی):سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے شبلی فراز کیس میں پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ ہائیکورٹ فریقین کو سن کر زیرِ التوا درخواست پر فیصلہ کرے، عدالتِ عظمیٰ نے سینیٹ الیکشن روکنے کی درخواست بھی مسترد کردی۔جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں پانچ رکنی آئینی بینچ نے شبلی فراز کی جانب سے الیکشن کمیشن کے ڈی سیٹ کرنے کے نوٹیفکیشن کے خلاف دائر درخواست پر پشاور ہائیکورٹ کی کارروائی غیر معینہ مدت تک ملتوی کرنے کے فیصلے کے خلاف اپیل کی بدھ کو سماعت کی۔جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ کل کتنی نشستوں پر الیکشن ہونا ہے جس پر بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ صرف ایک نشست پر الیکشن ہے۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ سینیٹ الیکشن میں مداخلت نہیں کریں گے اور یہ الیکشن روکنے کی استدعا مسترد کردی۔الیکشن کمیشن کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ کیس میں ریلیف حاصل کرنے کے لیے درخواست گزاروں کا سرنڈر کرنا لازمی ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر نے پوچھا کہ کیا پشاور ہائیکورٹ نے کیس کے قابلِ سماعت ہونے یا نہ ہونے پر کوئی فیصلہ کیا جس پر بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ کیس ابھی خارج نہیں کیا گیا۔
جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیے کہ یہ مقدمہ بنیادی حقوق سے متعلق ہے جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے کہا کہ حقوق کا تعلق براہِ راست سزا سے ہے، درخواست گزار انسدادِ دہشتگردی عدالت سے سزا یافتہ ہے ۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس میں کہا کہ پشاور ہائیکورٹ کو صرف ایک پیراگراف میں حکم دینا چاہیے تھا مگر اکتیس صفحات تحریر کر دیے گئے۔بعد ازاں سپریم کورٹ نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے شبلی فراز کی درخواست نمٹا دی اورحکم دیا کہ ہائیکورٹ فریقین کو سن کر شبلی فراز کی زیرِ التوا درخواست پر فیصلہ کرے۔








