اسلام آباد۔ 28 فروری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس نے کیسز کی منتقلی اور جلد سماعت کے سلسلے میں نئے قواعد جاری کیے ہیں۔اس ضمن میں جاری سرکلر کے مطابق اگر کوئی ایڈووکیٹ آن ریکارڈ (AOR) یا خود مقدمہ لڑنے والا (litigant in person) اپنے کیس کو کسی برانچ رجسٹری سے سپریم کورٹ کے مرکزی دفتر اسلام آباد منتقل کروانا چاہتا ہے اور ساتھ ہی جلد …
سپریم کورٹ ،کیسز کی منتقلی اور جلد سماعت کے لیے نئی ہدایات کے سرکلر کا اجراء

مزید خبریں
اسلام آباد۔ 28 فروری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس نے کیسز کی منتقلی اور جلد سماعت کے سلسلے میں نئے قواعد جاری کیے ہیں۔اس ضمن میں جاری سرکلر کے مطابق اگر کوئی ایڈووکیٹ آن ریکارڈ (AOR) یا خود مقدمہ لڑنے والا (litigant in person) اپنے کیس کو کسی برانچ رجسٹری سے سپریم کورٹ کے مرکزی دفتر اسلام آباد منتقل کروانا چاہتا ہے اور ساتھ ہی جلد سماعت بھی چاہتا ہے تو اسے علیحدہ علیحدہ درخواستیں دائر کرنا ہوں گی۔
پہلے کیس کی منتقلی کے لیے درخواست دائر ہوگی اور اگر یہ منظور ہو گئی تو پھر علیحدہ درخواست جلد سماعت کے لیے دائر کی جائے گی۔ البتہ اگر متعلقہ برانچ رجسٹری میں بینچ دستیاب ہو تو AOR یا مدعی وہاں بھی جلد سماعت کی درخواست کر سکتا ہے۔
مستقبل میں کوئٹہ برانچ رجسٹری میں دائر ہونے والے کسی بھی سول یا فوجداری مقدمے کے لیے، درخواست دہندہ سے ایک مخصوص فارم پر یہ اختیار لیا جائے گا کہ وہ چاہتا ہے کہ اس کا کیس کوئٹہ برانچ میں سنا جائے یا مرکزی دفتر اسلام آباد میں۔ اگر کیس کو اسلام آباد میں سنوانا ہو تو درخواست دہندہ کو وجوہات فارم میں درج کرنا ہوں گی جو متعلقہ مجاز اتھارٹی کے سامنے پیش کی جائیں گی۔








