سپریم کورٹ میں سپر ٹیکس کیسز کی سماعت جمعرات تک ملتوی

اسلام آباد۔8اکتوبر (اے پی پی):سپریم کورٹ کے آٹھ رکنی آئینی بینچ نے سپر ٹیکس سے متعلق مقدمات کی سماعت جمعرات تک ملتوی کر دی۔ مختلف کمپنیوں کے وکیل فروغ نسیم نے بدھ کو اپنے دلائل جاری رکھے جو کل بھی جاری رہیں گے۔سماعت کے دوران فروغ نسیم نے موقف اختیار کیا کہ سیکشن 31 اے انکم ٹیکس آرڈیننس کا حصہ نہیں ہے، مختلف نوٹیفکیشنز کے ذریعے کسٹمز ڈیوٹی مقرر کی …

اسلام آباد۔8اکتوبر (اے پی پی):سپریم کورٹ کے آٹھ رکنی آئینی بینچ نے سپر ٹیکس سے متعلق مقدمات کی سماعت جمعرات تک ملتوی کر دی۔ مختلف کمپنیوں کے وکیل فروغ نسیم نے بدھ کو اپنے دلائل جاری رکھے جو کل بھی جاری رہیں گے۔سماعت کے دوران فروغ نسیم نے موقف اختیار کیا کہ سیکشن 31 اے انکم ٹیکس آرڈیننس کا حصہ نہیں ہے، مختلف نوٹیفکیشنز کے ذریعے کسٹمز ڈیوٹی مقرر کی جاتی ہے اور سیکشن 31 اے کے بعد امپورٹ پر سیلز ٹیکس عائد نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ انکم ٹیکس کا نظام گزشتہ دو سو سال سے اسی طرز پر چل رہا ہے اور اخراجات کے بعد ہی حقیقی مالی صورتحال واضح ہوتی ہے۔جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیئے کہ ٹیکس ریٹرن سے ہی ٹیکس دہندہ کی اصل پوزیشن ظاہر ہوتی ہے۔فروغ نسیم نے استفسار کیا کہ ’’میرا کھاتہ دس ماہ پہلے بند ہو چکا، پھر ٹیکس کیسے لگ سکتا ہے؟ اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے دلچسپ ریمارکس دیئے کہ آپ کہنا چاہتے ہیں کہ باغ ختم نہ کریں

صرف پھل کھائیں؟ فروغ نسیم نے مزید نشاندہی کی کہ بنگلہ دیش میں بینکوں پر 21 فیصد جبکہ پاکستان میں 93 فیصد ٹیکس عائد ہے۔عدالت نے سماعت جمعرات تک ملتوی کر دی۔