سپریم کورٹ میں غیرقانونی کڈنی ٹرانسپلانٹ کیس سماعت 23 اپریل تک ملتوی ، ملزم کی عدم پیشی پر برہمی کا اظہار

اسلام آباد۔6اپریل (اے پی پی):سپریم کورٹ نے بطور پلاسٹک سرجن غیرقانونی کڈنی ٹرانسپلانٹ کرنے کے سنگین کیس میں ملزم ڈاکٹر کی عدم پیشی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے نوٹس جاری کر دیا۔سپریم کورٹ میں جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے بطور پلاسٹک سرجن غیرقانونی طور پر کڈنی ٹرانسپلانٹ کرنے والے ملزم ڈاکٹر فواد ممتاز کے خلاف پیر کو کیس کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت ڈائریکٹر …

اسلام آباد۔6اپریل (اے پی پی):سپریم کورٹ نے بطور پلاسٹک سرجن غیرقانونی کڈنی ٹرانسپلانٹ کرنے کے سنگین کیس میں ملزم ڈاکٹر کی عدم پیشی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے نوٹس جاری کر دیا۔سپریم کورٹ میں جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے بطور پلاسٹک سرجن غیرقانونی طور پر کڈنی ٹرانسپلانٹ کرنے والے ملزم ڈاکٹر فواد ممتاز کے خلاف پیر کو کیس کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت ڈائریکٹر لیگل پنجاب عمران احمد اور وکیل صفائی عدالت میں پیش ہوئے۔ ڈائریکٹر لیگل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ ملزم ڈاکٹر کو اسلام آباد کے سیکٹر بی-17 میں غیرقانونی طور پر کڈنی ٹرانسپلانٹ کرتے ہوئے گرفتار کیا گیاجہاں کوئی باقاعدہ آپریشن تھیٹر بھی موجود نہیں تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ملزم اس سے قبل بھی ایسے غیرقانونی ٹرانسپلانٹس کرتے ہوئے پکڑا جا چکا ہے۔جسٹس ہاشم کاکڑ نے استفسار کیا کہ کیا ڈاکٹر عدالت میں پیش ہوا ہے؟ جس پر وکیل صفائی نے بتایا کہ ملزم ڈاکٹر فواد ممتاز پیش نہیں ہوا۔

اس پر عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ پلاسٹک سرجن کیسے کڈنی ٹرانسپلانٹ کر سکتا ہے، یہ ایک انتہائی پیچیدہ عمل ہے، ڈاکٹر کہاں ہے؟ ڈائریکٹر لیگل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ ملزم اس وقت ضمانت پر رہا ہے اور اس کے خلاف متعدد کیسز زیر سماعت ہیں ۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ یہ بہت سنگین نوعیت کا کیس ہے ۔ جسٹس ہاشم کاکڑ نے استفسار کیا کہ کیا متاثرہ مریض زندہ ہیں؟ جس پر ڈی ایل پنجاب نے بتایا کہ وہ مریض زندہ ہیں جن کی کڈنی ٹرانسپلانٹ کی جا رہی تھی۔ بعد ازاں عدالت نے نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 23 اپریل تک ملتوی کر دی۔واضح رہے کہ ملزم ڈاکٹر فواد ممتاز کی سزا میں اضافے کے لیے پراسیکیوشن پنجاب نے اپیل دائر کر رکھی ہے جبکہ ہائی کورٹ نے اس کی سزا کو پہلے سے گزری ہوئی مدت تک محدود کر دیا تھا۔ ملزم کو 2023 میں سات سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

مزید خبریں
اوٹاوا میں پرچم کشائی، قائداعظم کے وژن اور پاکستان کے عزم و اتحاد کو اجاگر کیا گیا اوٹاوا۔15اگست (اے پی پی):کینیڈا کے دارالحکومت اوٹاوا میں پاکستان کے ہائی کمیشن جبکہ مونٹریال، ٹورنٹو اور وینکوور میں قائم پاکستان کے تینوں قونصل جنرلز نے پاکستان کا 80واں یومِ آزادی اور بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے 150ویں یومِ پیدائش کی سال بھر جاری رہنے والی تقریبات منائیں۔اوٹاوا میں ہائی کمیشن کی چانسری میں پرچم کشائی کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں پاکستان کی آزادی، قائداعظم محمد علی جناح کے وژن اور پاکستانی قوم کے عزم و اتحاد کو اجاگر کیا گیا۔ اس موقع پر صدرِ پاکستان، وزیراعظم اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ کے خصوصی پیغامات بھی پڑھ کر سنائے گئے۔یومِ آزادی کی تقریبات کے ساتھ قائداعظم محمد علی جناح کے 150ویں یومِ پیدائش کی سال بھر جاری رہنے والی تقریبات کا بھی آغاز کیا گیا۔ اس موقع پر قائداعظم کی زندگی، قیادت اور قیامِ پاکستان کے لیے تاریخی جدوجہد کو اجاگر کرنے والی دستاویزی فلم پیش کی گئی جبکہ قائداعظم کی زندگی کے اہم لمحات اور پاکستان کی تاریخ کے نمایاں سنگِ میل پر مبنی ڈیجیٹل تصویری نمائش بھی منعقد کی گئی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہائی کمشنر محمد سلیم نے پاکستان کے 80ویں یومِ آزادی پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی لازوال خدمات اور ورثے کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت قائداعظم کے ایک پُرامن، جمہوری اور خوشحال پاکستان کے وژن کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے۔ہائی کمشنر نے کہا کہ پاکستان مستقبل میں بھی ریاستوں کے درمیان امن، مذاکرات، تعاون اور باہمی احترام کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے کینیڈا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے عوامی سطح پر روابط مضبوط بنانے میں اہم کردار کو بھی اجاگر کیا۔تقریب میں گریٹر اوٹاوا کے علاقے سے پاکستانی کمیونٹی کے نمائندوں اور پاکستان کے دوستوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ پاکستانی خاندانوں، بالخصوص نوجوانوں کی پُرجوش شرکت نے حب الوطنی کے جذبے کی بھرپور عکاسی کی۔شرکا نے ملک کے دفاع اور قومی امنگوں کی تکمیل کے لیے پاکستان کی مسلح افواج اور عوام کی بہادری و قربانیوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔شرکا نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ قائداعظم محمد علی جناح کا 150واں یومِ پیدائش نوجوان نسل کو ان کے اصولوں، دوراندیشی اور پاکستان کے لیے ان کے وژن سے رہنمائی حاصل کرنے کی ترغیب دیتا رہے گا۔