اسلام آباد۔8اکتوبر (اے پی پی):سپریم کورٹ میں چھبیسویں آئینی ترمیم کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت بدھ کو جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں آٹھ رکنی آئینی بینچ نے کی۔ بینچ میں جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شاہد بلال شامل تھے۔ سماعت کے دوران جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس …
سپریم کورٹ میں چھبیسویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں پر سماعت

مزید خبریں
اسلام آباد۔8اکتوبر (اے پی پی):سپریم کورٹ میں چھبیسویں آئینی ترمیم کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت بدھ کو جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں آٹھ رکنی آئینی بینچ نے کی۔ بینچ میں جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شاہد بلال شامل تھے۔
سماعت کے دوران جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیئے کہ ہم آئین پر انحصار کرتے ہیں اور وکلاء بھی آئین ہی پر انحصار کرتے ہیں، جب تک آئین میں ترمیم نہیں ہوتی موجودہ آئین ہی لاگو ہے۔لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے وکیل حامد خان نے موقف اختیار کیا کہ چھبیسویں آئینی ترمیم سینیٹ میں عجلت میں منظور کی گئی۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ معاملے کی سماعت فل کورٹ کرے کیونکہ اس ترمیم سے عدلیہ کے اختیارات اور آزادی پر براہ راست اثر پڑا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ آٹھ رکنی بینچ کے علاوہ بقیہ آٹھ ججز بھی اس وقت سپریم کورٹ کا حصہ تھے جب یہ ترمیم منظور ہوئی، لہٰذا تمام 16 ججز پر مشتمل فل کورٹ تشکیل دی جائے۔جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ ’’فی الحال یہ سوال نہیں کہ ترمیم درست ہے یا نہیں، یہ آئین کا حصہ ہے‘‘۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ’’جوڈیشل کمیشن میں پارلیمنٹری کمیٹی کو شامل کیا گیا ہے، بتائیں عدالت فل کورٹ کس اختیار کے تحت تشکیل دے سکتی ہے؟‘‘جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ ’’26ویں ترمیم میں فل کورٹ بنانے پر کوئی پابندی نہیں ‘‘۔
وکیل حامد خان نے موقف اپنایا کہ عدالت آئین کے آرٹیکل 187 کے تحت یہ اختیار استعمال کر سکتی ہے اور ماضی میں بھی آئینی نوعیت کے مقدمات میں فل کورٹ تشکیل دی گئی۔جسٹس مندوخیل نے کہا کہ ’’فرض کریں ہم تمام ججز کو آئینی بینچ کا حصہ مان لیں، تو کیا آپ مطمئن ہو جائیں گے؟‘‘جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیئے کہ اگر آئینی بینچ کا وجود ہی ختم ہوجائے تو پھر سپریم کورٹ کے فیصلے کون کرے گا؟۔جسٹس نعیم افغان نے کہا کہ ماضی میں پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ موجود نہیں تھا، اب چیف جسٹس کا اختیار آئینی کمیٹی کے پاس ہے‘‘۔
عدالت نے واضح کیا کہ فی الحال فل کورٹ بنانے کی درخواست پر دلائل سنے جا رہے ہیں، مرکزی کیس یعنی چھبیسویں آئینی ترمیم کے آئینی جواز پر سماعت بعد میں ہوگی۔ جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ ممکن ہے یہ معاملہ ایک ماہ تک صرف اس نکتے پر ہی زیر بحث رہے کہ کیس کون سا بینچ سنے گا۔وکیل حامد خان جمعرات کو ماضی میں تشکیل دیئے گئے فل کورٹس کی فہرست عدالت میں پیش کریں گے۔








