سپریم کورٹ آف پاکستان نے گھریلو تشدد اور میکے سے بار بار پیسے منگوانے پر مجبور کیے جانے کے پس منظر میں شوہر کے قتل کے مقدمے میں سزا یافتہ خاتون افشاں سحر کی عمر قید کی سزا کم کرکے 14 سال قید میں تبدیل کر دی
سپریم کورٹ نےشوہر کے قتل میں ملوث خاتون کی سزا کم کر دی

مزید خبریں
اسلام آباد۔8جون (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے گھریلو تشدد اور میکے سے بار بار پیسے منگوانے پر مجبور کیے جانے کے پس منظر میں شوہر کے قتل کے مقدمے میں سزا یافتہ خاتون افشاں سحر کی عمر قید کی سزا کم کرکے 14 سال قید میں تبدیل کر دی۔جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اپیل کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت وکیلِ صفائی پرنس ریحان نے مؤقف اختیار کیا کہ مقتول شوہر بے روزگار تھا جو اپنی اہلیہ کو تشدد کا نشانہ بناتا اور اسے میکے سے رقم منگوانے پر مجبور کرتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ مجرمہ کے چار بچے تھے اور اس کی والدہ عموماً مالی مدد فراہم کرتی تھیں، تاہم آخری مرتبہ انہوں نے رقم دینے سے انکار کر دیا جس کے بعد مقتول نے افشاں سحر پر تشدد کیا۔پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ مجرمہ نے شوہر کے سر پر وار کیا جس کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہوئی۔وکیلِ صفائی نے عدالت کو بتایا کہ افشاں سحر 2016 سے جیل میں ہے اور تقریباً دس سال قید کاٹ چکی ہے۔دلائل مکمل ہونے پر سپریم کورٹ نے افشاں سحر کی عمر قید کی سزا کم کرکے 14 سال قید میں تبدیل کرنے کا حکم جاری کر دیا۔








