سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ فوجداری نظامِ انصاف میں بے گناہی کا اصول بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور محض الزام کسی شخص کے جرم کے ثبوت کے لئے کافی نہیں ہوتا، جب تک استغاثہ جرم کے ہر عنصر کو معقول شک سے بالاتر ہو کر ثابت نہ کرے۔رپورٹنگ کے لئے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس عقیل احمد عباسی پر مشتمل …
سپریم کورٹ نے جعلی سفری دستاویزات کیس میں ملزم کی بریت بحال کر دی

مزید خبریں
اسلام آباد۔8جون (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ فوجداری نظامِ انصاف میں بے گناہی کا اصول بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور محض الزام کسی شخص کے جرم کے ثبوت کے لئے کافی نہیں ہوتا، جب تک استغاثہ جرم کے ہر عنصر کو معقول شک سے بالاتر ہو کر ثابت نہ کرے۔رپورٹنگ کے لئے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس عقیل احمد عباسی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے جعلی پاسپورٹ اور بیرون ملک بھجوانے کے مقدمہ میں ملزم الطاف یوسف کی بریت بحال کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔ عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں قرار دیا کہ بریت کے خلاف اپیل میں مداخلت صرف غیر معمولی حالات میں کی جا سکتی ہے جبکہ بریت کا فیصلہ دوہری مفروضہ بے گناہی (Double Presumption of Innocence) کا تحفظ حاصل کر لیتا ہے۔مقدمہ کے مطابق ایف آئی اے نے 2006 میں ایک خاتون کو جعلی سفری دستاویزات کے ذریعے بیرون ملک بھجوانے کی کوشش کے الزام میں مقدمہ درج کیا تھا۔ استغاثہ کا مؤقف تھا کہ ملزم الطاف یوسف نے دیگر ملزمان کے ساتھ مل کر جعلی دستاویزات کی تیاری اور سفر کے انتظامات میں معاونت کی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جوڈیشل مجسٹریٹ ملیر کراچی نے 21 جون 2006 کو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 249-A کے تحت ملزم کو بری کر دیا تھا کیونکہ ریکارڈ پر ایسا کوئی ٹھوس اور قابلِ اعتماد ثبوت موجود نہیں تھا جس سے ثابت ہو کہ ملزم کو جعلی دستاویزات کے بارے میں علم تھا یا وہ دھوکہ دہی کی کسی کارروائی میں شریک تھا۔ ٹرائل کورٹ نے قرار دیا تھا کہ ملزم کی جانب سے بطور ٹریول ایجنٹ صرف ہوائی ٹکٹ جاری کرنا بذاتِ خود فراڈ یا جعلسازی کے جرم کے زمرے میں نہیں آتا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ شریک ملزمہ کے پولیس کے سامنے دیئے گئے بیان کو قانونی شہادت نہیں سمجھا جا سکتا کیونکہ اس کا بیان مجاز مجسٹریٹ کے سامنے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ نہیں کیا گیا تھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ پولیس کے سامنے کیا گیا اعتراف یا بیان قانونِ شہادت کے تحت قابلِ قبول نہیں ہوتا۔عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ سندھ ہائی کورٹ نے بریت کا فیصلہ کالعدم کرتے وقت ٹرائل کورٹ کے دلائل اور دستیاب شواہد کا آزادانہ جائزہ نہیں لیا اور نہ ہی کوئی مضبوط قانونی بنیاد فراہم کی۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ہائی کورٹ نے طویل عرصے بعد مقدمہ دوبارہ ٹرائل کورٹ کو بھجوا دیا حالانکہ ملزم پہلے ہی اسی واقعہ سے متعلق ایک دوسرے مقدمہ میں بھی بری ہو چکا تھا۔
سپریم کورٹ نے اپنے مختصر حکمنامہ کی وجوہات بیان کرتے ہوئے قرار دیا کہ استغاثہ ملزم کے خلاف کوئی ایسا ناقابلِ تردید اور قابلِ اعتماد ثبوت پیش نہیں کر سکا جس سے اس کا جرم ثابت ہوتا، لہٰذا سندھ ہائی کورٹ کا 17 اکتوبر 2022 کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے جوڈیشل مجسٹریٹ ملیر کراچی کی جانب سے دی گئی بریت بحال کی جاتی ہے۔








