سپریم کورٹ نے شواہد پیش نہ کرنے پر کیس خارج ہونے کے خلاف اپیل مسترد کر دی

اسلام آباد۔4نومبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے ایک شہری عرفان رشید کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر نظرِ ثانی کی درخواست (CPLA 3470/2025) مسترد کر دی۔منگل کو جاری تحریری فیصلہ کے مطابق یہ درخواست سول جج پنڈی بھٹیاں اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کے فیصلوں کے خلاف دائر کی گئی تھی، جنہوں نے مدعی کی جانب سے شواہد پیش نہ کرنے پر کیس خارج کر دیا …

اسلام آباد۔4نومبر (اے پی پی):سپریم کورٹ نے ایک شہری عرفان رشید کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر نظرِ ثانی کی درخواست (CPLA 3470/2025) مسترد کر دی۔منگل کو جاری تحریری فیصلہ کے مطابق یہ درخواست سول جج پنڈی بھٹیاں اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کے فیصلوں کے خلاف دائر کی گئی تھی، جنہوں نے مدعی کی جانب سے شواہد پیش نہ کرنے پر کیس خارج کر دیا تھا۔جسٹس شکیل احمد اور جسٹس عامر فاروق پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سماعت کے بعد قرار دیا کہ نچلی عدالتوں کے فیصلے میں کوئی قانونی یا دائرہ اختیار سے متعلق خامی نہیں پائی گئی۔

فیصلے کے مطابق عرفان رشید نے 2018ء میں 25 کنال زمین 90 لاکھ روپے میں خریدنے کا معاہدہ کیا جس میں سے 39 لاکھ روپے بطور بیعانہ ادا کیے گئے۔ بعد ازاں فریقین کے درمیان تنازع پیدا ہوا اور خریدار نے فروخت کنندگان کے خلاف مقدمہ دائر کیا۔ اس کے جواب میں فروخت کنندگان نے معاہدہ منسوخ کرنے کا دعویٰ دائر کیا، جو 2019ء میں ان کے حق میں فیصل ہوا۔مدعی نے بعد میں سیکشن 12(2) سی پی سی کے تحت عدالت سے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی تاہم وہ بارہا موقع دیئے جانے کے باوجود اپنے گواہ اور شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا۔

عدالت نے آرڈر XVII رول 3 سی پی سی کے تحت اس کا حق شواہد بند کر دیا۔سپریم کورٹ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ مقدمات میں بار بار کی تاریخیں دینا عدالتی نظام کے لیے ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے، جو انصاف کی بروقت فراہمی میں رکاوٹ اور عوامی اعتماد میں کمی کا باعث بنتا ہے۔ عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ ضابطہ دیوانی (سی پی سی) کا مقصد غیر ضروری تاخیر کے بجائے انصاف کی جلد فراہمی ہے۔

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ درخواست گزار کو کم از کم دس مواقع دیئے گئے، جن میں متعدد بار "آخری موقع” کی تنبیہ بھی کی گئی، مگر اس کے باوجود شواہد پیش نہ کرنے پر نچلی عدالت نے درست طور پر کیس نمٹا دیا۔لہٰذا سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ تمام نچلی عدالتوں کے فیصلے درست اور قانونی تھے اور عرفان رشید کی اپیل خارج کر دی گئی۔ عدالت نے کوئی جرمانہ یا اخراجات عائد نہیں کیے۔