سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ، پولیس اہلکاروں پر حملہ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے زمرے میں قرار

اسلام آباد۔13نومبر (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اگر کسی نجی دشمنی کے دوران حملے میں پولیس یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران زخمی یا شہید ہوں تو یہ واقعہ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت ’’دہشت گردی‘‘ کے زمرے میں آئے گا۔ سپریم کورٹ کی جانب سےمنظور شدہ تحریری …

اسلام آباد۔13نومبر (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اگر کسی نجی دشمنی کے دوران حملے میں پولیس یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران زخمی یا شہید ہوں تو یہ واقعہ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت ’’دہشت گردی‘‘ کے زمرے میں آئے گا۔ سپریم کورٹ کی جانب سےمنظور شدہ تحریری فیصلہ کے مطابق یہ فیصلہ جسٹس یحییٰ آفریدی (چیف جسٹس)، جسٹس محمد شفیع صدیقی اور جسٹس اشتیا ق ابراہیم پر مشتمل تین رکنی بنچ نے ریاض حسین بنام ریاست کیس میں سنایا۔

کیس کے مطابق ملزم ریاض حسین پر الزام تھا کہ اس نے 2016 میں عبدالوہاب چانڈیو کو پولیس حراست میں قتل کیا اور دو پولیس کانسٹیبلز محمد ایوب اور زاہد علی کو گولیاں مار کر زخمی کیا۔ یہ واقعہ سب جیل وارہ، ضلع قمبر شہدادکوٹ کے احاطے میں پیش آیا تھا۔ملزم کو انسدادِ دہشت گردی عدالت نے عمر قید اور دیگر سزائیں سنائیں جو سندھ ہائی کورٹ، سرکٹ بنچ لاڑکانہ نے برقرار رکھیں تاہم ملزم نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی، مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہ یہ واقعہ ذاتی دشمنی کا نتیجہ تھا، اس لئے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کا اطلاق نہیں ہوتا۔

عدالتِ عظمیٰ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ اگرچہ اصل ہدف ایک نجی فرد تھا مگر حملہ پولیس حراست میں کیا گیا جس کے دوران دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے جو اپنے سرکاری فرائض انجام دے رہے تھے، اس لئے یہ عمل ریاستی اداروں پر حملے کے مترادف ہے اور انسدادِ دہشت گردی قانون کے تحت آتا ہے۔

فیصلے میں عدالت نے واضح کیا کہ جب کوئی اقدام پولیس یا قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو اُن کے فرائض سے روکنے یا خوفزدہ کرنے کے لئے کیا جائےیا اُنہیں جان لیوا نقصان پہنچایا جائےتو وہ دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے، چاہے اس کے پیچھے ذاتی دشمنی ہی کیوں نہ ہو۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ملزم کی سزا قانون کے مطابق ہے اور اپیل خارج کر دی۔