سپریم کورٹ کا سابق سی ایس ایس افسر کی ترقی کے معاملہ کو دوبارہ سننے کا حکم

اسلام آباد۔19جنوری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم سروس معاملہ میں قرار دیا ہے کہ کسی بھی سرکاری افسر کے خلاف منفی فیصلہ اس وقت تک نہیں کیا جا سکتا جب تک اسے مؤقف پیش کرنے اور سنے جانے کا مکمل موقع نہ دیا جائے۔ عدالت نے سابق سی ایس ایس افسر محترمہ صبیحہ حمید کی گریڈ 20 میں ترقی کے معاملہ کو دوبارہ سننے کا حکم …

اسلام آباد۔19جنوری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم سروس معاملہ میں قرار دیا ہے کہ کسی بھی سرکاری افسر کے خلاف منفی فیصلہ اس وقت تک نہیں کیا جا سکتا جب تک اسے مؤقف پیش کرنے اور سنے جانے کا مکمل موقع نہ دیا جائے۔ عدالت نے سابق سی ایس ایس افسر محترمہ صبیحہ حمید کی گریڈ 20 میں ترقی کے معاملہ کو دوبارہ سننے کا حکم دے دیا ہے۔عدالت کی جانب سے جاری تحریری تفصیلی فیصلے کے مطابق یہ فیصلہ جسٹس منیب اختر اور جسٹس عرفان سعادت خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے 9 دسمبر 2025 کو سنایا۔ عدالت نے وفاقی سروس ٹریبونل (ایف ایس ٹی) کے 23 اکتوبر 2023 کے حکم کے خلاف دائر درخواست کو باقاعدہ اپیل میں تبدیل کرتے ہوئے منظور کر لیا۔

عدالتی فیصلے کے مطابق محترمہ صبیحہ حمید ایک سی ایس ایس افسر رہ چکی ہیں، جو نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی لاہور میں ایڈیشنل ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دیتی رہی ہیں۔ انہیں گریڈ 20 میں ترقی کے لیے سپرسیڈ کیا گیا، جس کے بعد وہ 15 اپریل 2015 کو ریٹائر ہو گئیں۔ ترقی سے محرومی کے خلاف دائر اپیل پر ایف ایس ٹی نے 16 نومبر 2020 کو واضح طور پر قرار دیا تھا کہ بادی النظر میں وہ ترقی کی اہل ہیں اور محکمہ کو ہدایت دی تھی کہ ان کا کیس قواعد کے مطابق دوبارہ دیکھا جائے۔

سپریم کورٹ نے فیصلے میں قرار دیا کہ ایف ایس ٹی کا یہ حکم حتمی حیثیت اختیار کر چکا تھا، اس کے باوجود سینٹرل سلیکشن بورڈ (سی ایس بی) نے 2023 میں دوبارہ غور کے نام پر اسی 2014 کے فیصلے کو بنیاد بنایا، جسے پہلے ہی غیر قانونی قرار دیا جا چکا تھا۔ عدالت نے حیرت کا اظہار کیا کہ سی ایس بی نے محض اس بنیاد پر ترقی سے انکار کر دیا کہ افسر کو مطلوبہ 70 فیصد کے بجائے 63.30 فیصد نمبر دیے گئے، حالانکہ نہ تو انہیں ان نمبروں سے آگاہ کیا گیا اور نہ ہی وضاحت یا سماعت کا کوئی موقع فراہم کیا گیا۔

عدالت نے واضح کیا کہ کسی سرکاری افسر کو منفی نمبر دینا یا ترقی سے محروم کرنا اس وقت تک قانونی نہیں ہو سکتا جب تک اسے سنے جانے کا حق نہ دیا جائے۔ جسٹس عرفان سعادت خان نے فیصلے میں ریمارکس دیے کہ چونکہ درخواست گزار کو ذاتی سماعت کا موقع فراہم نہیں کیا گیا، اس لیے انصاف کے بنیادی تقاضے پورے نہیں ہوئے۔سپریم کورٹ نے کیس دوبارہ محکمہ اسٹیبلشمنٹ کو بھجواتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ دو ماہ کے اندر سینٹرل سلیکشن بورڈ کا اجلاس بلا کر محترمہ صبیحہ حمید کو ذاتی طور پر سنا جائے اور قواعد و قانون کے مطابق نیا فیصلہ کیا جائے۔

مزید خبریں