سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف اپیلوں کی سماعت براہ راست نشر کرنے کی درخواست منظور

اسلام آباد۔7اکتوبر (اے پی پی):سپریم کورٹ کے آٹھ رکنی آئینی بینچ نے 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف دائر اپیلوں کی سماعت براہ راست نشر کرنے کی درخواستیں منظور کر لیں۔جسٹس امین الدین کی سربراہی میں قائم بینچ میں جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم افغان اور جسٹس شاہد بلال شامل تھے۔ منگل کودوران سماعت تمام …

اسلام آباد۔7اکتوبر (اے پی پی):سپریم کورٹ کے آٹھ رکنی آئینی بینچ نے 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف دائر اپیلوں کی سماعت براہ راست نشر کرنے کی درخواستیں منظور کر لیں۔جسٹس امین الدین کی سربراہی میں قائم بینچ میں جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم افغان اور جسٹس شاہد بلال شامل تھے۔

منگل کودوران سماعت تمام درخواست گزاروں نے کارروائی براہ راست نشر کرنے کی حمایت کی جبکہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے موقف اختیار کیا کہ سماعت کو براہ راست نشر کرنا یا نہ کرنا عدالت کی صوابدید ہے۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد نشریات کی اجازت دے دی۔

سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ براہ راست نشریات عوام کو معلومات فراہم کرنے کے لیے ہوتی ہیں تاہم اس کا غلط استعمال بھی ہو جاتا ہے۔ عدالت نے مصطفیٰ نواز کھوکھر کی رجسٹرار اعتراضات کے خلاف درخواست کو اوپن کورٹ میں سننے کا فیصلہ بھی کر لیا۔

وکیل شاہد جمیل نے موقف اپنایا کہ فل کورٹ تشکیل دینے کا پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کا فیصلہ تاحال موثر ہے اور اس پر عملدرآمد کے لیے درخواست بھی دائر کی گئی ہے، جس پر جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیئے کہ آپ کی درخواست اوپن کورٹ میں منگوا کر سن لیتے ہیں۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت (بدھ) صبح ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کر دی۔