اسلام آباد ۔ 17 جولائی (اے پی پی) چمن بارڈر اور اس کے گردونواح میں عوام کو درپیش مسائل پر غور کے لئے ہنگامی اجلاس جمعہ کو پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کی۔ اجلاس میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اسٹیبلشمنٹ، پارلیمنٹیرینز، پاکستان کے افغانستان کے لئے خصوصی مندوب، پارلیمانی سیکرٹری برائے داخلہ، متعلقہ وفاقی سیکرٹریز اور متاثرہ سٹیک ہولڈرز …
سپیکر اسد قیصرکی زیرصدارت چمن بارڈر اور گردونواح میں عوام کو درپیش مسائل پر غور کے لئے ہنگامی اجلاس

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 17 جولائی (اے پی پی) چمن بارڈر اور اس کے گردونواح میں عوام کو درپیش مسائل پر غور کے لئے ہنگامی اجلاس جمعہ کو پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کی۔ اجلاس میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اسٹیبلشمنٹ، پارلیمنٹیرینز، پاکستان کے افغانستان کے لئے خصوصی مندوب، پارلیمانی سیکرٹری برائے داخلہ، متعلقہ وفاقی سیکرٹریز اور متاثرہ سٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔ سپیکر قومی اسمبلی نے چمن بارڈر کی بندش کی وجہ سے مقامی آبادی ور اسٹیک ہولڈرز کو درپیش مسائل کے فوری خاتمہ کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ چمن میں لوگوں کو درپیش مسائل بہت اہم نوعیت کے ہیں اور ترجیحی بنیادوں پر اس کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اسٹیبلشمنٹ سے متعلق وزیراعظم کے معاون خصوصی کو ہدایت کی کہ سٹیک ہولڈرز کے ساتھ بیٹھ کر اس معاملے پر غور کریں اور جلد از جلد مسائل کو حل کریں۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ چمن بارڈر سے ملحقہ علاقوں کے لوگ سالوں سے روایتی انداز میں کاروبار کرتے رہے ہیں اور بہت سے لوگوں کے پاس اپنی دکانیں اور سرحد پار زمینیں ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ کرونا وبائی مرض سے وابستہ ایس او پیز کے جاری ہونے کے بعد چمن بارڈر اور اس کے گردونواح میں رہائش پذیر لوگوں کے کاروبار کے سلسلے میں مسائل میں اضافہ ہو گیا ہے۔ نئی پالیسیاں متعارف کرانے اور سخت جانچ پڑتال کے باعث لوگوں کے لئے مشکلات پیدا ہو چکی ہیں جس کی وجہ سے متاثرہ افراد ان علاقوں میں احتجاج کر رہے ہیں۔ چمن سے ممبر قومی اسمبلی صلاح الدین ایوبی نے اجلاس کو چمن بارڈر کی اصل صورتحال سے متعلق آگاہ کیا۔ وزارت داخلہ، نیشنل ہیلتھ سروسز، قواعد و ضوابط اور کوآرڈینیشن کے نمائندوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ ترجیحی بنیادوں پر مسائل کا حل کریں۔ کمیٹی کا دوسرا اجلاس آئندہ ہفتے ہو گا۔








