اسلام آباد ۔ 24 جنوری (اے پی پی)سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ پارلیمانی سفارتکاری کے ذریعے دنیا کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے اور اس کے ذریعے دنیا میں امن کے قیام اور خوشحالی کے لیے کردار ادا کرناہماری اولین ترجیح ہونی چاہیئے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو پارلیمنٹ ہاو¿س میں پارلیمانی فرینڈشپ گروپس کے کنوینئرز سے خطاب کرتے ہوئے …
سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا پارلیمانی فرینڈشپ گروپس کے کنوینئرز سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 24 جنوری (اے پی پی)سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ پارلیمانی سفارتکاری کے ذریعے دنیا کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے اور اس کے ذریعے دنیا میں امن کے قیام اور خوشحالی کے لیے کردار ادا کرناہماری اولین ترجیح ہونی چاہیئے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو پارلیمنٹ ہاو¿س میں پارلیمانی فرینڈشپ گروپس کے کنوینئرز سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پارلیمانی سفارتکاری کی اہمیت اور دنیا کی پارلیمانوں کے ساتھ روابط کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔سپیکر نے کہا کہ عصرحاضر میں پارلیمانی سفارتکاری کا کردار انتہائی اہمیت کاحامل ہے اور اسی وجہ سے میں نے پارلیمانی سفاتکاری پر خصوصی توجہ دی ہے اور موجودہ اسمبلی میں پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑی تعداد میں 94فرینڈز شپ گروپس قائم کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پارلیمانی فرینڈشپ گروپس کی تشکیل پارلیمانی تعاون کو فروغ دینے اور مشترکہ پارلیمانی کوششوں کا ایک تسلسل ہے۔انہوں نے کہا کہ فرینڈشپ گروپس مختلف ممالک کی پارلیمانوں کو نزدیک لانے اور ان کے مابین ہم آہنگی کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ سپیکر اسد قیصرنے پارلیمانی فرینڈ شپ گروپس کے کنوینئرز کو پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے اور ملک میں بیرونی سرمایہ کاری کے فروغ اور بیرونی ممالک کے ساتھ تجارت میں توازن لانے کے لئے کردار ادا کرنے کے لیے کہا۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پارلیمانی فرینڈ شپ گروپس دنیا کی پارلیمانوں کے ساتھ روابط میں اضافے اور دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کو دنیا کی نظروں میں اجاگر کرنے میں اہم سنگِ میل ثابت ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) ایک گیم چینجر منصوبہ ہے اس سے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے عوام مستفید ہوں گے۔انہوں نے فرینڈشپ گروپس کے کنونیرز پر سی پیک منصوبے کی اہمیت کو دنیا میں اجاگر کرنے اور اس کیخلاف ہونے والے پراپیگنڈے کے سدِ باب کے لیے کوششیں کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کنوینئرز سے کہا کہ جن ممالک کی پارلیمانوں کے ساتھ روابط کو فروغ دینے پر توجہ نہیں دی گئی ان پر خصوصی توجہ مرکوز کریں۔انہوں نے فرینڈشپ گروپس کے کنونیئرز پر ملکی معیشت ، ثقافت کے فروغ اور پاکستانی طلباءکو بیرونی ممالک میں تعلیم حاصل کرنے کے مواقع فراہم کرنے کے لیے کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کو کنوینئرز کے لئے وزارت خارجہ اور وزارت تجارت کی طر ف سے ایک تفصیلی بریفنگ کا اہتمام کرنے کے لیے ہدایات دیں۔انہو ں نے گروپس میں مو جو د سینئر اراکین کو نئے آنے والے اراکین کی اس سلسلے میں رہنما ئی کر نے کے لیے بھی کہا۔ اس موقع پر فرینڈ شپ گروپ کے کنوینئرز نے فرینڈ شپ گروپس کی تشکیل اور بطور کنوینئر ان کے تقرر پر سپیکر کا شکریہ ادا کیا اور اپنے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔ انہوں نے دنیا کی پارلیمانوں کے ساتھ روابط کو فروغ دینے اور دنیا میں پاکستان کے حقیقی تشخص کو اجاگر کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی عوام نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں دنیا کے سامنے اصل حقائق کو سامنے لانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے ملکی معیشت کی ترقی کے لئے ایوان صنعت و تجارت کو بھی شامل کرنے کی تجاویز دیں۔قبل ازیں سیکرٹری قومی اسمبلی طاہر حسین نے شرکاءاجلاس کو فرینڈ شپ گروپس کے اغراض و مقاصد اور تفصیلات سے آگاہ کیا۔








