سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا قومی اسمبلی کی نئی حلقہ بندیوں کیلئے آئینی ترمیم کے معاملہ پر تعطل دور کرنے کیلئے پارلیمانی لیڈرز کا ایک اور اجلاس بلانے کا اعلان الیکشن کمیشن بار بار یہ کہہ رہا ہے کہ وہ آئینی ترمیم نہ ہونے کی صورت میں یہ معاملہ سپریم کورٹ میں لے جائے گا اس لئے اجلاس دو روز کے لئے ملتوی کرکے اس مسئلے کا حل …
سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا قومی اسمبلی کی نئی حلقہ بندیوں کیلئے آئینی ترمیم کے معاملہ پر تعطل دور کرنے کیلئے پارلیمانی لیڈرز کا ایک اور اجلاس بلانے کا اعلان

مزید خبریں
سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا قومی اسمبلی کی نئی حلقہ بندیوں کیلئے آئینی ترمیم کے معاملہ پر تعطل دور کرنے کیلئے پارلیمانی لیڈرز کا ایک اور اجلاس بلانے کا اعلان
الیکشن کمیشن بار بار یہ کہہ رہا ہے کہ وہ آئینی ترمیم نہ ہونے کی صورت میں یہ معاملہ سپریم کورٹ میں لے جائے گا اس لئے اجلاس دو روز کے لئے ملتوی کرکے اس مسئلے کا حل نکالنا ہوگا، سپیکر
اسلام آباد۔ 6 نومبر (اے پی پی) سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے قومی اسمبلی کی نئی حلقہ بندیوں کیلئے آئینی ترمیم کے معاملہ پر تعطل دور کرنے کیلئے پارلیمانی لیڈرز کا ایک اور اجلاس بلانے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن بار بار یہ کہہ رہا ہے کہ وہ آئینی ترمیم نہ ہونے کی صورت میں یہ معاملہ سپریم کورٹ میں لے جائے گا اس لئے اجلاس دو روز کے لئے ملتوی کرکے اس مسئلے کا حل نکالنا ہوگا۔ علاوہ ازیں قومی اسمبلی میں سیاسی جماعتوں نے نئی حلقہ بندیوں کے لئے آئینی ترمیم فوری کرنے اور سپیکر کی سربراہی میں ہونے والے اجلاسوں میں اتفاق رائے ہونے کے باوجود پیپلز پارٹی کی طرف سے ایوان میں آکر اس کی مخالفت کرنے کو چھوٹے صوبوں کی مخالفت قرار دیا ہے جبکہ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے اراکین نے پنجاب کی جانب سے اپنے حصے کی 9 نشستیں چھوٹے صوبوں کو دینے کے جذبے کو سراہا ہے جبکہ قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا کہ ہم انتخابات مقررہ وقت پر چاہتے ہیں، ہم قبل از وقت انتخابات کے حق میں نہیں ہیں۔ پیر کو قومی اسمبلی کے اجلاس کے آغاز میں نکتہ اعتراض پر قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد شیرپاﺅ نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی طرف سے چھوٹے صوبوں کو حقوق اور ان کی نشستوں میں اضافہ پر اعتراض اور مخالفت سمجھ سے بالاتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے تھے کہ پنجاب مخالفت کرے گا لیکن سپیکر کی صدارت میں اجلاس میں سب نے اتفاق کیا اور کسی نے معاملہ مشترکہ مفادات کونسل میں لے جانے کی بات نہیں کی۔








