سپیکر قومی اسمبلی کا گھوٹکی کے رہائشی کا خود کو قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کا ملازم ظاہر کرنے کے معاملے کا نوٹس، سیکرٹری قومی اسمبلی کے ڈی جی ایف آئی اے اور آئی جی سندھ کو کارروائی کے لیے خطوط

سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے نام سے جاری کیے گئے جعلی تقرری/آفر لیٹر اور اس کے ذریعے قومی اسمبلی کی سرکاری حیثیت کے مبینہ غلط استعمال کے معاملے کا نوٹس لےلیا ہے

اسلام آباد۔4جولائی (اے پی پی):سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے نام سے جاری کیے گئے جعلی تقرری/آفر لیٹر اور اس کے ذریعے قومی اسمبلی کی سرکاری حیثیت کے مبینہ غلط استعمال کے معاملے کا نوٹس لےلیا ہے۔ ہفتہ کو قومی اسمبلی سیکرٹریٹ سے جاری بیان کے مطابق قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے علم میں آیا ہے کہ ضلع گھوٹکی سے تعلق رکھنے والا عبدالواجد نامی شخص مبینہ طور پر خود کو قومی اسمبلی میں گریڈ 17 کا ملازم ظاہر کرتے ہوئے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے نام سے منسوب جعلی تقرر نامہ، جس پر سپیکر قومی اسمبلی کے جعلی دستخط بھی ثبت کیے گئے استعمال کر رہا تھا۔ اطلاعات کے مطابق مذکورہ شخص نہ صرف سرکاری اہلکاروں اور پولیس کو اس جعلی حیثیت کے ذریعے گمراہ کر کے مبینہ طور پر غیر قانونی مراعات اور پروٹوکول حاصل کرتا رہا بلکہ عام شہریوں کو مختلف طریقوں سے ہراساں کرنے اور دباؤ میں رکھنے میں بھی ملوث رہا، جس کے نتیجے میں عوامی سطح پر بے چینی اور تشویش پائی گئی۔قومی اسمبلی سیکرٹریٹ واضح کرتا ہے کہ مذکورہ عبدالواجد نامی شخص کا قومی اسمبلی سیکرٹریٹ سے کسی بھی نوعیت کا کوئی تعلق نہیں ہے، اور نہ ہی مذکورہ شخص کی قومی اسمبلی میں کسی بھی ملازمت یا تقرری سے متعلق کوئی ریکارڈ موجود ہے۔ اس کی جانب سے استعمال کیا جانے والا لیٹر مکمل طور پر جعلی ہے اور اس کا قومی اسمبلی سے کوئی قانونی یا سرکاری تعلق نہیں ۔سپیکر قومی اسمبلی کی ہدایات پر قائم مقام سیکرٹری قومی اسمبلی نے ڈائریکٹر جنرل فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی (FIA) اور انسپکٹر جنرل سندھ پولیس کو باضابطہ طور پر خطوط ارسال کیے، جن میں جعلی تقرر نامے کے اصل ذریعے کا سراغ لگانے، اس کی تیاری میں ملوث عناصر کی نشاندہی کرنے اور ذمہ داران کے خلاف مروجہ قوانین کے تحت قانونی کارروائی کرنے کی درخواست کی گئی۔قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی شکایت پر ایف آئی اے نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مذکورہ شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔ ملزم کے خلاف مروجہ قوانین کے تحت قانونی کارروائی جاری ہے، جبکہ جعلی تقرر نامے کی تیاری، اس کے اصل ذریعے کا سراغ لگانے اور اس جرم میں ملوث دیگر عناصر کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے یہ بھی واضح کیا جاتا ہے کہ قومی اسمبلی، سپیکر قومی اسمبلی یا کسی بھی سرکاری عہدے کے نام پر جعلی دستاویزات تیار کرنا، جعلی دستخط استعمال کرنا یا اس بنیاد پر کسی بھی قسم کا پروٹوکول، مراعات یا دیگر غیر قانونی فوائد حاصل کرنا ایک سنگین اور قابلِ تعزیر جرم ہے۔ ایسے عناصر کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔قومی اسمبلی سیکرٹریٹ عوام اور تمام سرکاری اداروں سے اپیل کرتا ہے کہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ سے منسوب کسی بھی تقرر نامے، آفر لیٹر یا دیگر سرکاری دستاویزات کی صداقت کی تصدیق متعلقہ حکام سے ضرور کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی یا جعلی دستاویز کی فوری اطلاع متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دیں، تاکہ ریاستی اداروں کے نام کے ناجائز استعمال کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔