سیالکوٹ۔22نومبر (اے پی پی):وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے گندم کی کاشت میں اضافہ کے ویژن کے تحت محکمہ زراعت (توسیع) سیالکوٹ، بینک آف پنجاب اور سٹیٹ بینک آف پاکستان کے اشتراک سے تحصیل ڈسکہ کی ایک مقامی مارکی میں گندم کی فی ایکڑ پیداوار بڑھانے اور ہائی پاور فارم میکنائزیشن پروگرام کے تحت جدید زرعی مشینری کی بلاسود فراہمی کے سلسلے میں آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ …
سیالکوٹ،گندم کے کاشتکاروں کےلئے بلاسود زرعی مشینری کے حصول کے لئے آگاہی سیمینار

مزید خبریں
سیالکوٹ۔22نومبر (اے پی پی):وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے گندم کی کاشت میں اضافہ کے ویژن کے تحت محکمہ زراعت (توسیع) سیالکوٹ، بینک آف پنجاب اور سٹیٹ بینک آف پاکستان کے اشتراک سے تحصیل ڈسکہ کی ایک مقامی مارکی میں گندم کی فی ایکڑ پیداوار بڑھانے اور ہائی پاور فارم میکنائزیشن پروگرام کے تحت جدید زرعی مشینری کی بلاسود فراہمی کے سلسلے میں آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ سیمینار کا مقصد کاشتکاروں کو جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، بہتر زرعی طریقہ کار اور آسان مالی معاونت فراہم کر کے زرعی شعبے میں بہتری لانا ہے۔
تقریب میں ڈاکٹر شکیل احمد، ڈائریکٹر زراعت (توسیع) گوجرانوالہ ڈویژن، وقاص کاشف باجوہ، چیف منیجر سٹیٹ بینک آف پاکستان گوجرانوالہ اور ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت توسیع سیالکوٹ سجاد حیدر نے شرکت کی اور کاشتکاروں کی رہنمائی کی۔ انہوں نے جدید مشینری کے استعمال کی اہمیت، زرعی اصلاحات، موسمیاتی تغیرات کے چیلنجز اور حکومتِ پنجاب کی کاشتکار دوست پالیسیوں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ڈاکٹر شکیل احمد نے کہا کہ بروقت کاشت، تصدیق شدہ بیج کا استعمال اور جدید آلات کے ذریعے زمین کی تیاری سے پیداوار میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔
انہوں نے کاشتکاروں کو مشینری شیئرنگ سکیم، کرایہ پر مشینری کی دستیابی اور زرعی خدمات کے مراکز سے فائدہ اٹھانے کی بھی ترغیب دی۔بینک آف پنجاب اور سٹیٹ بینک کے نمائندگان نے کاشتکاروں کو بلاسود قرضوں کی تفصیلات، اہلیت کے معیار، درخواست کے طریقہ کار، مشینری کی اقسام اور آسان اقساط کے حوالے سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کی یہ سکیم چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسانوں کے لیے خصوصی سہولت رکھتی ہے تاکہ وہ جدید زرعی آلات سے استفادہ کر سکیں۔
پروگرام میں مشینری ڈسپلے سٹالز بھی لگائے گئے جن میں ہائی پاور ٹریکٹر، ہیپی سیڈرز، رِیپر بائنڈرز، رِج ملرز، لیزر لینڈ لیولرز اور دیگر جدید آلات شامل تھے۔ کاشتکاروں نے ان سٹالز کا تفصیلی معائنہ کیا اور مشینری کے عملی مظاہرے دیکھے۔ کاشتکاروں نے پروگرام کو انتہائی مفید قرار دیا اور محکمہ زراعت اور بینکوں کے تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا۔








