سیالکوٹ ،محکمہ زراعت پنجاب نے دھان کی پنیری کی منتقلی کے دوران احتیاطی تدابیر جاری کر دیں

سیالکوٹ ،محکمہ زراعت پنجاب نے دھان کی پنیری کی منتقلی کے دوران احتیاطی تدابیر جاری کر دیں

سیالکوٹ۔ 23 جون (اے پی پی):محکمہ زراعت پنجاب نے دھان کے کاشتکاروں کو ہدایت کی ہے کہ زیادہ پیداوار کے حصول کے لیے پنیری کی منتقلی کے وقت اس کی عمر 25 سے 35 دن ہونی چاہیے۔ترجما ن محکمہ زراعت سیالکوٹ کے مطابق اگر لاب میں جڑی بوٹیاں اُگ آئیں تو ان کے انسداد کے لیے بعد از اُگاؤ محکمہ کی سفارش کردہ جڑی بوٹی مار ادویات کا سپرے کی جائے۔منتقلی لاب کے لیے کھیت کی تیاری کے وقت موٹی اقسام کے لیے بعد از گندم کاشتہ کھیت میں پونے دو بوری ڈی اے پی اور سوا بوری ایس او پی فی ایکڑ جبکہ باسمتی اقسام کے لیے ڈیڑھ بوری ڈی اے پی اور ایک بوری ایس او پی فی ایکڑ استعمال کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ اگر سابقہ فصل برسیم یا پھلی دار ہو یا کھیت رویال ہو تو نائٹروجن کھاد کی مقدار 20 فیصد کم کر دی جائے۔ فصل کی حالت، زمین کی زرخیزی اور سابقہ کاشتہ فصل کو مدنظر رکھتے ہوئے محکمہ زراعت پنجاب کے ماہرین کے مشورے سے کھاد کی مقدار میں کمی بیشی بھی کی جا سکتی ہے۔ بوران کی کمی کی صورت میں 3 کلوگرام بورک ایسڈ یا 4.5 کلوگرام بوریکس (20 فیصد) فی ایکڑ بوقت تیاری کھیت استعمال کیا جائے۔

ترجمان محکمہ زراعت نے ہدایت کی ہے کہ لاب کی منتقلی کے وقت پودوں کی تعداد 80 ہزار اور سوراخوں میں ایک لاکھ 60 ہزار پودے فی ایکڑ رکھی جائے یعنی 9 انچ کے فاصلے پر فی سوراخ دو پودے لگائے جائیں۔منتقلی لاب کے بعد 3 سے 5 دن کے اندر قبل از اُگاؤ اثر کرنے والی سفارش کردہ جڑی بوٹی مار دوا شیکر بوتل کے ذریعے کھیت کے پانی میں بکھیر دی جائے اور پانچ دن تک پانی کھیت میں کھڑا رکھا جائے۔ اگر کسی وجہ سے کھیت میں جڑی بوٹیاں اُگ آئیں تو بعد از اُگاؤ اثر کرنے والی زہریں لاب کی منتقلی کے ایک ماہ کے اندر استعمال کر لی جائیں۔

محکمہ زراعت پنجاب نے کاشتکاروں کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہ زنک کی کمی کی صورت میں کاشت کے دو ہفتے بعد 200 گرام زنک سلفیٹ (33 فیصد) فی مرلہ نرسری میں استعمال کریں یا پنیری کو کھیت میں منتقل کرنے سے پہلے محکمہ زراعت پنجاب کے مقامی زرعی ماہرین کے مشورے سے اس کی جڑوں کو زنک آکسائیڈ کے 2 فیصد محلول میں ڈبو کر لگائیں۔