سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں تحفظ صارف قانون 2005 کے بارے مشاورتی و آگاہی سیشن کا انعقاد

سیالکوٹ۔5نومبر (اے پی پی):سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں تحفظ صارف قانون 2005 کے بارے مشاورتی و آگاہی سیشن منعقد ہوا۔ سیشن میں ڈائریکٹر جنرل کنزیومر پروٹیکشن کونسل عمران قریشی، صدر سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز سید احتشام مظہر گیلانی ،سینئر نائب صدر میاں مراد ارشد، نائب صدر سلمان شیخ، صدر انجمن تاجران مہر مجتبیٰ اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو عباس ذوالقرنین نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ …

سیالکوٹ۔5نومبر (اے پی پی):سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں تحفظ صارف قانون 2005 کے بارے مشاورتی و آگاہی سیشن منعقد ہوا۔ سیشن میں ڈائریکٹر جنرل کنزیومر پروٹیکشن کونسل عمران قریشی، صدر سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز سید احتشام مظہر گیلانی ،سینئر نائب صدر میاں مراد ارشد، نائب صدر سلمان شیخ، صدر انجمن تاجران مہر مجتبیٰ اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو عباس ذوالقرنین نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ سیشن میں تاجر برادری، وکلاء، سول سوسائٹی اور صحافیوں نے بھی کثیر تعداد میں شرکت کی۔صدر سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز سید احتشام مظہر گیلانی نے معزز مہمانوں کا چیمبر آمد پر پرتپاک استقبال کیا اور انہیں خوش آمدید کہا ۔ خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب حقوق صارف قانون میں نئی روح پھونکنے جا رہی ہے، حکومت پنجاب کا صارف کو مزید تحفظ دینا قابل ستائش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم حکومت پنجاب کے عملی اقدامات کو سراہتے ہیں، صفائی کا اتنا اچھا نظام سیالکوٹ میں پہلے نہ تھا۔ انہوں نے مذید کہا کہ حکومت پنجاب کے اقدامات نہ صرف صارفین بلکہ کاروباری اداروں کے لیے بھی ایک شفاف اور اعتماد پر مبنی مارکیٹ بنانے میں مدد دیتے ہیں۔

سیشن کے دوران خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل کنزیومر پروٹیکشن کونسل عمران قریشی نے کہا کہ صارف کی شکایات کے جلد ازالے کیلئے ضلع کے بعد تحصیل سطح پر کنزیومر پروٹیکشن کونسلز قائم کر رہے ہیں۔ یہ کنزیومر پروٹیکشن کونسلز سمری ٹرائل کے بعد فوری ریلیف مہیا کرے گی ، شکایت کی صورت میں صارف کو فوری ریلیف کیلئے موبائل ایپ بھی بنا رہے ہیں جس سے صارفین کے 90 فیصد مسائل کا حل کنزیومر پروٹیکشن کونسلز میں ممکن ہو گا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ صارف موبائل کے ذریعہ آن لائن بھی اپنی شکایت کی سماعت میں شریک ہو سکے گا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب کچھ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر عوام کی سہولت کے لیے کیا جا رہا ہے اور ہم اس ایکٹ کو مزید فعال کر رہے ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل کنزیومر پروٹیکشن کونسل کا کہنا تھا کہ کنزیومر کورٹس موجود رہی گی اور اسے مزید فعال بنایا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ایکٹ کے 39 سیشنز میں سے چار کے تحت کنزیومر پروٹیکشن کونسلز فیصلے کریں گی، ہم سب صارف ہیں حالانکہ ایک کاروباری فرد بھی صارف ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد ہے کہ صارف کو اپنے حقوق کا پتا ہو اور اس کو خواری نہ اٹھانا پڑے۔سیشن کے دوران بریفنگ میں بتایا گیا کہ تحفظ صارف قانون کے بارے میں دس ہزار افراد سے سروے کیا گیا ہے، ڈسٹرکٹ کنزیومر کونسل اور اے ڈی لیگل اس کونسل کے سیکرٹری ہیں

کنزیومر کورٹ کی پاورز ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کو دی جا رہی ہیں ۔ ایکٹ کے سیکشن 11 کے تحت پراڈکٹ کی کوالٹی، اس کے اجزاء کی تفصیل نہ ہونے، بنانے کی تاریخ اور ایکسپائر کی تاریخ نہ ہونے پر ڈپٹی کمشنر کاروائی کر سکتا ہے۔ سیکشن 19 کے تحت رسید کا مہیا کرنا صارف کا حق ہے، رسید میں اشیاء کی تفصیل اور قیمت اور ٹیکس ہونا چاہیے ۔