سید علی گیلانی عزم، استقامت اور جدوجہد کی علامت تھے، ان کی زندگی اصولوں پر ثابت قدم رہنے کی روشن مثال ہے۔مقررین

ایوان کارکنان تحریک پاکستان نظریہ پاکستان ٹرسٹ میں پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (پی آئی ڈی) لاہور اور یوتھ فورم فار کشمیر کے زیر اہتمام کشمیری حریت رہنما سید علی گیلانی کی برسی کے موقع پر تحریک آزادی کشمیر کی جدوجہد اور مستقبل کا منظرنامہ کے موضوع پر تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب میں سینئر صحافی مجیب الرحمن شامی، سینئر صحافی و تجزیہ کار سلمان غنی، تجزیہ کار ملک سلمان، معروف صحافی طارق …

لاہور۔1ستمبر (اے پی پی):ایوان کارکنان تحریک پاکستان نظریہ پاکستان ٹرسٹ میں پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (پی آئی ڈی) لاہور اور یوتھ فورم فار کشمیر کے زیر اہتمام کشمیری حریت رہنما سید علی گیلانی کی برسی کے موقع پر تحریک آزادی کشمیر کی جدوجہد اور مستقبل کا منظرنامہ کے موضوع پر تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب میں سینئر صحافی مجیب الرحمن شامی، سینئر صحافی و تجزیہ کار سلمان غنی، تجزیہ کار ملک سلمان، معروف صحافی طارق غوری، معروف صحافی علی سجاد، ڈائریکٹر جنرل پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ لاہور شفقت عباس سمیت دیگر نے شرکت اور اظہار خیال کیا۔

معروف صحافی مجیب الرحمن شامی نے سید علی گیلانی کی سیاسی جدوجہد، اصول پسندی اور استقامت کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ سید علی گیلانی نے اپنی پوری زندگی مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے اور اپنے نظریات کے لیے وقف کردی۔ انہوں نے مشکل ترین حالات، بیماری، نظر بندی اور بڑھتی عمر کے باوجود اپنے موقف پر ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا۔ ان کی جدوجہد محض سیاسی سرگرمی نہیں بلکہ ایک طویل نظریاتی اور اصولی جدوجہد تھی جس نے کئی نسلوں کو متاثر کیا۔ سید علی گیلانی کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ مشکل حالات میں گھبرانے کے بجائے اپنے یقین، نظریات اور اصولوں کے ساتھ ثابت قدم رہنا چاہیے۔سینئر صحافی و تجزیہ کار سلمان غنی نے کہا کہ سید علی گیلانی کا ذکر آج بھی لوگوں کے اندر ایک نئی توانائی پیدا کرتا ہے، ان کی جدوجہد اور عظمت آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ سید علی گیلانی کی زندگی عزم، حوصلے اور ثابت قدمی کی روشن مثال ہے اور انہوں نے اپنی زندگی کشمیر کاز کے لیے وقف کردی۔سلمان غنی نے کہا کہ مسئلہ کشمیر جنوبی ایشیا کے امن اور استحکام سے براہ راست جڑا ہوا ہے، اس لیے خطے کے ممالک کو کشیدگی کم کرنے اور مسائل کے پرامن حل کے لیے سنجیدہ کوششیں کرنی چاہئیں۔ مسئلہ کشمیر صرف پاکستان اور بھارت کے درمیان دوطرفہ معاملہ نہیں بلکہ پورے خطے اور عالمی امن سے جڑا ہوا ہے۔ بھارت دور اندیشی، حقیقت پسندی اور دانش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے حل کی جانب پیش رفت کرے تو خطے میں امن، تعاون اور معاشی و سماجی ترقی کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کئی دہائیوں سے کشمیری عوام اپنے بنیادی حقوق، عزت و وقار اور اپنے مستقبل کے فیصلے کے حق کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔ نسل در نسل کشمیری عوام نے پابندیوں، تشدد، گرفتاریوں اور بے شمار قربانیوں کا سامنا کیا تاہم ان کے عزم اور حق خودارادیت کی خواہش میں کمی نہیں آئی۔

تجزیہ کار ملک سلمان نے کہا کہ کشمیر کی جدوجہد محض ایک سیاسی تنازع نہیں بلکہ انسانوں کے حق، شناخت اور مستقبل کا سوال ہے۔ کشمیر کی اصل آواز خود کشمیری عوام ہیں اور کسی بھی پائیدار حل میں ان کی خواہشات کو بنیادی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اسی طویل جدوجہد میں سید علی گیلانی جیسے رہنما سامنے آئے جنہوں نے اپنی پوری زندگی کشمیر کے حق خودارادیت کے لیے وقف کردی۔ ان کی ثابت قدمی، قربانی اور مسلسل جدوجہد اس امر کی یاد دہانی ہے کہ شخصیات رخصت ہوجاتی ہیں لیکن اصول اور مقصد زندہ رہتے ہیں۔

معروف صحافی طارق غوری نے کہا کہ پاکستان مسلسل عالمی سطح پر یہ مقف اجاگر کررہا ہے کہ جموں و کشمیر کا حتمی فیصلہ کشمیری عوام کی مرضی اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے۔پاکستان نے اقوام متحدہ سمیت دیگر بین الاقوامی فورمز پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر رکھا ہے، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آواز بلند کی ہے اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ محض تشویش کے اظہار تک محدود نہ رہے بلکہ مسئلے کے منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

معروف صحافی علی سجاد نے سید علی گیلانی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی کشمیر کاز کے لیے وقف کردی۔ ان کی قربانیاں، حوصلہ اور ثابت قدمی تاریخ کا حصہ ہیں جبکہ ان کا پیغام آنے والی نسلوں کے لیے جدوجہد، حوصلے اور استقامت کا پیغام ہے۔تقریب کے اختتام پر سید علی گیلانی مرحوم کے درجات کی بلندی اور مغفرت کے لیے دعا کی گئی۔ ڈی جی پی آئی ڈی لاہور شفقت عباس نے دعا کی کہ اللہ تعالی سید علی گیلانی مرحوم کی مغفرت فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا کرے اور کشمیری عوام کو امن، عزت، انصاف اور اپنے مستقبل کے فیصلے کا حق نصیب فرمائے۔