باکو/اسلام آباد۔28اکتوبر (اے پی پی):چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے آذربائیجان کے آئین کی منظوری کی 30 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ بین الاقوامی پارلیمانی کانفرنس کے موقع پر آذربائیجان کی قومی اسمبلی (ملی مجلس) کی سپیکر صاحبا غفاروا سے باضابطہ دو طرفہ ملاقات کی۔ چیئرمین سینیٹ نے آذربائیجان کی قیادت اور عوام کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ، برادرانہ …
سید یوسف رضا گیلانی کی بین الاقوامی پارلیمانی کانفرنس کے موقع پر آذربائیجان کے سپیکر سے ملاقات،آذربائیجان کی قیادت اور عوام کیلئے نیک خواہشات کا اظہار

مزید خبریں
باکو/اسلام آباد۔28اکتوبر (اے پی پی):چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے آذربائیجان کے آئین کی منظوری کی 30 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ بین الاقوامی پارلیمانی کانفرنس کے موقع پر آذربائیجان کی قومی اسمبلی (ملی مجلس) کی سپیکر صاحبا غفاروا سے باضابطہ دو طرفہ ملاقات کی۔ چیئرمین سینیٹ نے آذربائیجان کی قیادت اور عوام کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ، برادرانہ اور اعتماد پر مبنی تعلقات کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ امن، سلامتی اور خوشحالی کی جدوجہد صرف انفرادی ریاستوں کا ہدف نہیں بلکہ پاکستان اور آذربائیجان کا مشترکہ مشن ہے اور دونوں ملک مشترکہ مذہبی ، تاریخی اور ثقافتی مماثلتوں کے مضبوط رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔چیئرمین گیلانی نے سپیکر صاحبا غفاروا سے دوبارہ ملاقات پر خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ چند روز قبل اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات کے بعد دوبارہ باکو آنا باعث مسرت ہے۔
انہوں نے اسلام آباد میں حال ہی میں منعقدہ پاکستان، آذربائیجان اور ترکی کے درمیان سہ فریقی پارلیمانی کانفرنس کو علاقائی پارلیمانی تعاون میں ایک سنگ میل قرار دیا۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان اور آذربائیجان کے تعلقات محض سفارتی نہیں بلکہ صدیوں پر محیط تہذیبی، ثقافتی اور تاریخی روابط پر مبنی ہیں۔ انہوں نے باکو کے تاریخی "ملتان کاروان سرائے” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ 14ویں صدی کی یادگار ان تجارتی روابط کی علامت ہے جو برصغیر کے شہر ملتان سے تعلق رکھنے والے تاجروں کو آذربائیجان سے جوڑتے تھے۔
چیئرمین نے کہا کہ ان کے آبائو اجداد کا تعلق بھی ملتان سے ہے جس سے ان تعلقات میں ذاتی وابستگی کا رنگ بھی شامل ہے۔ انہوں نے سپیکر صاحبا غفاروا کو ملتان کے دورے کی دعوت بھی دی۔اپنے بطور وزیراعظم پاکستان دور اقتدار کی یاد تازہ کرتے ہوئےیوسف رضا گیلانی نے بتایا کہ 2012ء میں ورلڈ اکنامک فورم، ڈیووس کے موقع پر انہوں نے صدر الہام علییف سے ملاقات کی تھی جس میں توانائی، انفراسٹرکچر اور زرعی شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال ہوا۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت طے پانے والے اقدامات آج بھی دو طرفہ تعلقات کی مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔چیئرمین یوسف رضا گیلانی نے آذربائیجان کو خطے میں امن و استحکام کے فروغ پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ آرمینیا کے ساتھ حالیہ مفاہمتی اقدامات خطے میں ترقی و امن کی نئی راہیں کھولیں گے۔انہوں نے آذربائیجان کی قیادت کو اسلام آباد میں 10 تا 12 نومبر 2025ء تک ہونے والی "انٹر پارلیمنٹری سپیکرز کانفرنس” (آئی ایس سی) میں شرکت کی باضابطہ دعوت دی۔
انہوں نے کہا کہ یہ کانفرنس علاقائی امن، سلامتی اور ترقی پر جامع مکالمے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کرے گی اور بینالپارلیمانی تعلقات کو مزید مضبوط بنائے گی۔چیئرمین سینیٹ نے آذربائیجان کے ساتھ پاکستان کی کثیرالجہتی پلیٹ فارمز جیسے "ایشیائی پارلیمانی اسمبلی” (اے پی اے)، "انٹر پارلیمنٹری یونین” (آئی پی یو) اور "نان الائنڈ موومنٹ پارلیمانی نیٹ ورک” (این اے ایم پی این) میں فعال شرکت کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے آذربائیجان کو این اے ایم کے پارلیمانی ڈھانچے میں دوبارہ انتخاب پر مبارکباد دی اور کہا کہ اس تسلسل سے تنظیمی استحکام اور رکن ممالک کے درمیان پارلیمانی روابط مزید مستحکم ہوں گے۔سپیکر صاحبا غفاروا نے چیئرمین سینیٹ کا پرتپاک خیرمقدم کیا اور کہا کہ ایک ماہ کے دوران دونوں رہنمائوں کی یہ دوسری ملاقات دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کی علامت ہے۔
انہوں نے پاکستان کے دورے کے دوران فراہم کی گئی میزبانی پر شکریہ ادا کیا اور چیئرمین یوسف رضا گیلانی کا "سال آئین و ریاست” کی تقریبات میں شرکت پر شکریہ ادا کیا جو صدر الہام علییف نے کاراباخ ریجن پر مکمل خودمختاری کے بعد منانے کا اعلان کیا تھا۔
سپیکر غفاروا نے آرمینیا کے ساتھ جاری امن و ترقیاتی اقدامات سے یوسف رضا گیلانی کو آگاہ کیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان پارلیمانی تعاون کے فروغ کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔دونوں رہنمائوں نے باہمی روابط، پارلیمانی وفود کے تبادلوں اور مشترکہ ترقیاتی و عوامی منصوبوں کے ذریعے تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔








