سیرتِ نبوی ﷺ ہمارے لئے مکمل ضابطہ حیات، نوجوانوں کے مسائل کا حل اسلامی تعلیمات اور سیرتِ طیبہ میں مضمر ہے، سیدال خان ناصر
سیرتِ نبوی ﷺ ہمارے لئے مکمل ضابطہ حیات، نوجوانوں کے مسائل کا حل اسلامی تعلیمات اور سیرتِ طیبہ میں مضمر ہے، سیدال خان ناصر

مزید خبریں
اسلام آباد۔3ستمبر (اے پی پی):قائم مقام چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر نے کہا ہے کہ سیرتِ نبوی ﷺ ہمارے لئے مکمل ضابطۂ حیات اور دنیا و آخرت میں کامیابی کا حقیقی راستہ ہے، عصرِ حاضر میں نوجوانوں کو درپیش تعلیمی، معاشی اور سماجی چیلنجز کا پائیدار حل اسلامی تعلیمات اور سیرتِ طیبہ ﷺ کی روشنی میں تلاش کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار الحمد اسلامک یونیورسٹی کے شعبہ علومِ اسلامیہ کے زیر اہتمام دوسری بین الاقوامی سیرت کانفرنس 2026ء کے اسلام آباد سیشن سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس کا موضوع "عصرِ حاضر میں نوجوانوں کو درپیش تعلیمی، معاشی اور سماجی چیلنجز اور سیرتِ طیبہ ﷺ کی روشنی میں ان کا حل” تھا۔
قائم مقام چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی سیرتِ مبارکہ پوری انسانیت کے لئے رحمت، امن، محبت، مساوات، عدل اور رواداری کا عملی نمونہ ہے، دنیا نے سائنس، ٹیکنالوجی اور مادی ترقی میں بے مثال کامیابیاں حاصل کی ہیں تاہم انسان آج بھی بے چینی، نفرت، تعصب اور عدمِ تحفظ جیسے مسائل کا شکار ہے، ایسے حالات میں سیرتِ طیبہ ﷺ ہی وہ روشن راستہ ہے جو انسانیت کو امن، محبت اور باہمی احترام کا درس دیتا ہے۔سیدال خان ناصر نے کہا کہ آج دنیا میں بقائے باہمی، رواداری اور مذہبی ہم آہنگی کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے، میثاقِ مدینہ مختلف مذاہب اور طبقات کے درمیان امن، باہمی احترام، حقوق کے تحفظ اور ذمہ داریوں کی ادائیگی کا تاریخی نمونہ ہے، فتح مکہ کے موقع پر رسول اکرم ﷺ کا بے مثال عفو و درگزر بھی پوری انسانیت کے لئے عظیم مثال ہے۔
انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نبوت سے قبل بھی صداقت اور امانت کے باعث صادق و امین کے لقب سے معروف تھے، اگر ہم معاشرے میں حقیقی تبدیلی، امن اور ترقی چاہتے ہیں تو سچائی، دیانتداری، امانت، وعدے کی پاسداری، عدل اور حسنِ اخلاق کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔قائم مقام چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ نوجوان کسی بھی ملک کا سب سے قیمتی سرمایہ اور مستقبل کے معمار ہوتے ہیں، پاکستان خوش قسمت ہے کہ اس کی 60 فیصد سے زائد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، نوجوانوں کو جدید تعلیم، تحقیق اور ہنر سے آراستہ کرنے کے ساتھ ساتھ اسلامی اقدار، اخلاقیات اور سیرتِ طیبہ ﷺ سے روشناس کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ نوجوانوں میں نفرت، تعصب اور منفی رجحانات کا فروغ تشویشناک ہے، نوجوان نسل کی اصلاح کے لئے ان کے دلوں سے بغض اور نفرت کو نکال کر علم، کردار، برداشت، مثبت سوچ اور باہمی احترام کو فروغ دینا ہوگا۔ سوشل میڈیا کے منفی استعمال کی روک تھام اور نوجوانوں کو مثبت اور تعمیری سرگرمیوں کی جانب راغب کرنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
سیدال خان ناصر نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں اور قیادت کو ملک و قوم کے وسیع تر مفاد کو ترجیح دینی چاہئے، ہمیں ایسی سیاسی سوچ اور قیادت کو آگے لانا ہوگا جو پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور استحکام کے لئے اپنا کردار ادا کرے اور ذاتی مفادات کے بجائے قومی مفاد کو مقدم رکھے، ملک کی ترقی اور بہتری اسی وقت ممکن ہے جب ہم احتساب کا آغاز خود اپنی ذات سے کریں اور مخلص، باصلاحیت اور محبِ وطن افراد کو آگے آنے کا موقع دیں۔قائم مقام چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ ایک وقت تھا جب عالمی سطح پر پاکستان کے بارے میں منفی تاثر پایا جاتا تھا تاہم اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم، موجودہ سیاسی و عسکری قیادت کی کاوشوں اور محنت کے نتیجے میں آج دنیا بھر میں پاکستان کے وقار اور مثبت تشخص میں بہتری آئی ہے، ہمیں اپنی سیاسی اور عسکری قیادت کی ان کاوشوں پر فخر ہے جن کے باعث پاکستان کا نام عالمی سطح پر بہتر انداز میں اجاگر ہوا۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ اہم بین الاقوامی پیشرفتوں اور معاہدوں میں پاکستان کا کردار ملک کے لئے باعثِ فخر ہے، خانہ کعبہ کی حرمت اور حفاظت ہر مسلمان کے دل کے قریب ہے اور اس مقدس ذمہ داری کے لئے ہر پاکستانی اپنی جان تک قربان کرنے کے لئے تیار ہے۔قائم مقام چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر نہ صرف دنیا میں ایک باوقار، پُرامن اور کامیاب معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے بلکہ آخرت میں بھی کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے، سیرتِ نبوی ﷺ کے موضوع پر علمی و تحقیقی سرگرمیوں کا فروغ نوجوان نسل کی فکری، اخلاقی اور روحانی تربیت میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
انہوں نے دوسری بین الاقوامی سیرت کانفرنس 2026ء کے انعقاد پر الحمد اسلامک یونیورسٹی کے شعبہ علومِ اسلامیہ، منتظمین، دانشوروں اور محققین کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ کانفرنس سیرتِ طیبہ ﷺ کے آفاقی پیغام کو عام کرنے، نوجوان نسل کی فکری و اخلاقی تربیت اور معاشرے میں اسلامی اقدار کے فروغ کے لئے مؤثر ثابت ہوگی۔








