قومی پرائیویٹ ایکویٹی پالیسی فریم ورک کا مقصد حقیقی سرمائے کو متحرک کرکے سرمایہ کاری کے عملی نتائج میں تبدیل کرنا ہونا چاہیے، وزیرخزانہ محمداورنگزیب

قومی پرائیویٹ ایکویٹی پالیسی فریم ورک کا مقصد حقیقی سرمائے کو متحرک کرکے سرمایہ کاری کے عملی نتائج میں تبدیل کرنا ہونا چاہیے، وزیرخزانہ محمداورنگزیب

اسلام آباد۔3ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہاہے کہ قومی پرائیویٹ ایکویٹی پالیسی فریم ورک کا مقصد حقیقی سرمائے کو متحرک کرکے اسے سرمایہ کاری کے عملی نتائج میں تبدیل کرنا ہونا چاہیے ،پاکستانی اور بین الاقوامی دونوں سرمایہ کاروں کو متوجہ کرنے والی قابل اعتماد ملکی ایکوسسٹم کی تشکیل دینے کی ضرورت ہے، پاکستان کے کاروباری اداروں اور سرمایہ کاری کے مواقع کو ادارہ جاتی سرمائے کے وسیع تر ذرائع سے منسلک ہوناچاہیے۔ انہوں نے یہ بات جمعرات کویہاں قومی پرائیویٹ ایکویٹی پالیسی فریم ورک کی تیاری کے لیے قائم کمیٹی کے دوسرے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔

فریم ورک کا مقصد پاکستان میں پرائیویٹ ایکویٹی کے شعبے کو مضبوط بنانا اور پیداواری سرمایہ کاری کے لیے ملکی و بین الاقوامی طویل مدتی سرمائے کو زیادہ بڑے پیمانے پر متحرک کرنے میں سہولت فراہم کرنا ہے۔اجلاس کے آغاز میں کمیٹی نے پاکستان کی جانب سے 3 ارب ڈالر مالیت کے یورو بانڈ کے کامیاب اجرا پر وزیر خزانہ کو مبارکباد دی اوراس عمل میں بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی جانب سے بھرپور اور متنوع شرکت کو سراہا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ عالمی کیپٹل مارکیٹوں کی جانب سے مثبت ردعمل سے پاکستان کی معاشی سمت پر بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی ہورہی ہے ،اس سے کیپٹل مارکیٹ کے ایکویٹی شعبے کو مزید گہرا کرنے اور ملک کے طویل مدتی فنانسنگ کے ذرائع کو وسعت دینے کی کوششوں کے لیے حوصلہ افزاء ماحول فراہم ہوا ہے۔

وزیر خزانہ نے یاد دلایا کہ کمیٹی کے پہلے اجلاس کے بعد ضابطہ کاری، ٹیکس، ادارہ جاتی سرمایہ کاری اور دیگر پالیسی شعبوں میں کام کو آگے بڑھانے کے لیے مخصوص ورک اسٹریمز قائم کیے گئے تھے ، مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ان ورک سٹریمز کو ایک ایسے مربوط، عملی اور قابل نفاذ فریم ورک میں تبدیل کیا جائے جو مناسب ضابطہ جاتی تحفظات اور مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھتے ہوئے حقیقی سرمایہ کاری کو متحرک کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔اجلاس میں ضابطہ جاتی ورک سٹریم پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا جس میں سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے ادارہ جاتی شرکت، سرمایہ کاری، رقوم کی واپسی اور سرمایہ کاری سے اخراج کو آسان بنانے کے لیے زیر غور اقدامات، نیز پرائیویٹ ایکویٹی سرمایہ کاری کے لیے مناسب اکائونٹنگ طریقہ کار شامل ہیں۔

اجلاس میں موجودہ بینکاری اور انٹرنیشنل فنانشل رپورٹنگ سٹینڈرڈز کے تحت ایسی سرمایہ کاری کے طرز عمل پر بھی غور کیا گیا۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ بینکوں، ترقیاتی مالیاتی اداروں، انشورنس کمپنیوں اور پنشن فنڈز سمیت ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جائے جبکہ قابل اطلاق احتیاطی اور اکائونٹنگ معیارات کی پابندی بھی یقینی بنائی جائے۔ اجلاس میں پرائیویٹ ایکویٹی کے ڈھانچوں کے لیے ٹیکس نیوٹرلٹی کے اصول پر بھی تبادلہ خیال ہوا جس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ خود سرمایہ جمع کرنے کا ڈھانچہ ٹیکس کی ایک اضافی سطح کا باعث نہ بنے جبکہ آخرکار آمدن حاصل کرنے والوں کی سطح پر ٹیکس عائد ہونے کا اصول برقرار رہے۔

ارکان نے فنڈز پر لاگو موجودہ آمدنی کی تقسیم سے متعلق تقاضوں کا جائزہ لیا اور حقیقی سرمایہ کاری میں سہولت پیدا کرنے کے طریقوں پر غور کیا تاکہ ٹیکس میں ناجائز فائدہ اٹھانے یا ٹیکس بیس میں کمی کے مواقع پیدا نہ ہوں۔کمیٹی نے مجوزہ فریم ورک کے لازمی اجزاء کے طور پر مناسب افشا، رجسٹریشن اور ٹیکس سے بچنے کے خلاف حفاظتی اقدامات پر زور دیا ۔اجلاس میں نجی کمپنیوں کے لین دین میں کیپٹل گینز کے ٹیکس سے متعلق طرز عمل کا بھی جائزہ لیاگیا۔ ارکان نے اس امر کی اہمیت کو اجاگر کیا کہ ایسا فریم ورک وضع کیا جائے جو جائز سرمایہ کاری اور سرمایہ کاری سے اخراج کی حوصلہ شکنی نہ کرے جبکہ کم قیمت ظاہر کرنے اور دیگر ممکنہ غلط استعمال کے خلاف مناسب حفاظتی انتظامات بھی موجود ہوں۔

اجلاس میں شفاف، قابل اعتبار اور قابل اعتماد ویلیوایشن نظام وضع کرنے کی ضرورت پر زور دیا اورہدایت کی کہ جہاں مناسب ہو بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ پرائیویٹ ایکویٹی ویلیوایشن کے طریقہ ہائے کار سے استفادہ کیا جائے۔ اجلاس میں پرائیویٹ ایکویٹی اور وینچر کیپیٹل کے لیے مجوزہ قانونی و ضابطہ جاتی فریم ورک پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا جس کے حوالے سے سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری کام بھی شامل ہے۔ کمیٹی نے ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کے دائرہ کار کو وسیع کرنے اور ایسا ضابطہ جاتی ڈھانچہ تیار کرنے کے طریقوں پر غور کیا جو سرمایہ کاروں اور فنڈ مینجرز کے لیے زیادہ وضاحت اور یقینی ماحول فراہم کرے۔وزیرخزانہ نے کہاکہ پرائیویٹ ایکویٹی کاروباری اداروں اور معیشت کے پیداواری شعبوں میں صبر آزما اور طویل مدتی سرمائے کو متحرک کرنے کے لیے ایک اہم اثاثہ جاتی شعبہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملکی پرائیویٹ ایکویٹی کے مضبوط ایکوسسٹم سے کاروباری اداروں کو ترقی کے لیے درکار سرمایہ تک رسائی، ملکی سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کو تقویت، روزگار اور پیداواریت میں اضافہ اور سرمایہ کاروں کو طویل مدتی سرمایہ بروئے کار لانے کے لیے اضافی مواقع فراہم کیے جا سکتے ہیں۔وزیر خزانہ نے زور دیا کہ فریم ورک کا مقصد محض اضافی مالیاتی ڈھانچے تشکیل دینا نہیں ہونا چاہیے بلکہ حقیقی سرمائے کو متحرک کرکے اسے سرمایہ کاری کے عملی نتائج میں تبدیل کرنا ہونا چاہیے۔ انہوں نے ایک ایسے قابل اعتماد ملکی ایکوسسٹم کی تشکیل کی ضرورت پر زور دیا جو پاکستانی اور بین الاقوامی دونوں سرمایہ کاروں کو متوجہ کر سکے، مقامی فنڈ مینجمنٹ کی صلاحیت کو فروغ دے اور بتدریج پاکستان کے کاروباری اداروں اور سرمایہ کاری کے مواقع کو ادارہ جاتی سرمائے کے وسیع تر ذرائع سے منسلک کرے۔کمیٹی نے اتفاق کیا کہ ضابطہ کاری، ٹیکس اور قانونی ورک سٹریمز باہمی قریبی رابطے کے ساتھ کام جاری رکھیں اور اپنی سفارشات کو ایک مربوط قومی فریم ورک کی شکل دیں۔

متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنے اپنے جائزوں اور تکنیکی کام کو آگے بڑھائیں تاکہ زیر التواء معاملات کو مرحلہ وار حل کیا جا سکے اور سفارشات مزید غور کے لیے کمیٹی کے سامنے پیش کی جا سکیں۔وزیر خزانہ نے رفتار برقرار رکھنے اور پالیسی کی تیاری سے آگے بڑھ کر واضح اور مرحلہ وار طریقہ کار کے ذریعے اس کے نفاذ کی جانب پیش رفت کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ حتمی مقصد ایک مسابقتی، شفاف اور موثر طور پر ضابطہ بند پرائیویٹ ایکویٹی ماحول قائم کرنا ہے جو پاکستان کے مالی وسائل کے منظرنامے کو وسیع کرے، روایتی بینکاری اور کیپٹل مارکیٹ فنانسنگ کو تقویت دے اور زیادہ مقدار میں طویل مدتی سرمائے کو معاشی سرگرمیوں کے پیداواری شعبوں کی جانب منتقل کرے۔

اجلاس کے اختتام پر اس امر پر وسیع اتفاق رائے سامنے آیا کہ ترجیحی سفارشات کو آگے بڑھایا جائے اور مجموعی قومی پرائیویٹ ایکویٹی پالیسی فریم ورک کی تیاری کا عمل جاری رکھا جائے۔ اس فریم ورک میں ناجائز استعمال اور ٹیکس میں ناجائز فائدہ اٹھانے کے خلاف مناسب حفاظتی اقدامات شامل ہوں گے جبکہ پاکستان کی پرائیویٹ ایکویٹی مارکیٹ کی پائیدار ترقی کے لیے ضروری حالات پیدا کرنے پر بھی توجہ دی جائے گی۔اجلاس میں وزیراعظم کے مشیرصنعت و پیداوار مشیر ہارون اختر خان، وزیراعظم کے مشیرنجکاری محمد علی ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی اور سیکریٹری خزانہ امداد اللہ بوسال سمیت متعلقہ سرکاری و نجی شعبوں سے تعلق رکھنے والے کمیٹی کے دیگر ارکان نے شرکت کی۔