اسلام آباد۔20اکتوبر (اے پی پی): کے نتیجے میں پاکستان میں انسانی بحران کے ساتھ ملک کے اہم بنیادی ڈھانچے کو وسیع پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔رپورٹ کے مطابق ابتدائی تخمینوں کے مطابق 2,811 کلومیٹر سڑکیں اور 790 پل جزوی یا مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں جس سے متاثرہ آبادی کے لیے محفوظ مقامات تک نقل و حرکت اور انسانی امداد کی بروقت ترسیل میں شدید مشکلات درپیش ہیں۔ …
سیلاب سے انسانی بحران کے ساتھ اہم بنیادی ڈھانچے کو وسیع پیمانے پر نقصان پہنچا ، رپورٹ

مزید خبریں
اسلام آباد۔20اکتوبر (اے پی پی): کے نتیجے میں پاکستان میں انسانی بحران کے ساتھ ملک کے اہم بنیادی ڈھانچے کو وسیع پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔رپورٹ کے مطابق ابتدائی تخمینوں کے مطابق 2,811 کلومیٹر سڑکیں اور 790 پل جزوی یا مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں جس سے متاثرہ آبادی کے لیے محفوظ مقامات تک نقل و حرکت اور انسانی امداد کی بروقت ترسیل میں شدید مشکلات درپیش ہیں۔
مزید برآں کئی متاثرہ علاقوں میں انٹرنیٹ سروسز کے تعطل کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جس سے رابطہ کاری، معلومات کے تبادلے اور امدادی سرگرمیوں کی ہم آہنگی میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔
وزارتِ منصوبہ بندی کی جانب سے جاری کردہ جائزے کے مطابق ٹرانسپورٹ اور سٹوریج کے شعبے کو سیلابوں کے باعث تقریباً 206 ارب روپے کے تخمینہ شدہ نقصانات کا سامنا ہے۔
ان نقصانات میں سڑکوں، پلوں، ریلوے نیٹ ورک اور لاجسٹک سہولیات کی تباہی شامل ہے جو ملک بھر میں سامان اور خدمات کی ترسیل کے لیے ناگزیر ہیں۔ان حالات کے پیش نظر رواں مالی سال کے دوران ٹرانسپورٹ اور سٹوریج کے شعبے کی شرحِ نمو 3.4 فیصد کے ہدف کے مقابلے میں کم ہو کر 1.5 فیصد رہنے کی توقع ہے۔ یہ کمی نہ صرف انفراسٹرکچر کی تباہی کا نتیجہ ہے بلکہ سپلائی چین میں رکاوٹ، ٹرانسپورٹ لاگت میں اضافے اور متاثرہ علاقوں میں معاشی سرگرمیوں میں کمی کا بھی عکاس ہے۔
وزارتِ منصوبہ بندی کے مطابق ٹرانسپورٹ کا شعبہ قومی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کی طویل مدتی کمزوری زرعی، صنعتی اور تجارتی شعبوں پر منفی اثر ڈال سکتی ہے لہٰذا فوری بحالی کے ساتھ ساتھ پائیدار اور مضبوط انفراسٹرکچر کی تعمیر پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ مستقبل کی آفات کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔
ترجمان نے بتایا کہ پنجاب، خیبر پختونخوا، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں سڑکوں اور پلوں کو پہنچنے والے نقصانات خاص طور پر شدید ہیں۔خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے پہاڑی علاقوں میں پلوں کی تباہی ان علاقوں کی قدرتی ناہمواری اور سیلابی خطرات کے باعث پیدا ہونے والی نازک صورتحال کو ظاہر کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح متاثرہ علاقوں میں رابطے کی بحالی، پلوں کی ازسرنو تعمیر اور مستقبل میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے خلاف لچک پیدا کرنا ہے۔پہاڑی علاقوں میں اکثر شدید بارشوں اور کلاؤڈ برسٹ کے باعث اچانک آنے والے تیز سیلابی ریلے پلوں اور سڑکوں کے ڈھانچوں کو منٹوں میں بہا لے جاتے ہیں لہٰذا نئے منصوبوں میں جدید ڈیزائن، مضبوط بنیادوں اور حفاظتی پشتوں کو ترجیح دی جائے گی۔حکومتِ پاکستان پائیدار ترقی اور ماحولیاتی لچک کے عزم پر کاربند ہے تاکہ متاثرہ علاقوں میں زندگی کی معمول پر واپسی کو تیز کیا جا سکے اور مستقبل میں ایسے نقصانات کو کم سے کم رکھا جا سکے








